انوارالعلوم (جلد 13) — Page 28
۲۸ انوار العلوم جلد ۳ قرآن کریم پر ستیارتھ پرکاش کے اعتراضات کی حقیقت بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ قرآن کریم پر ستیارتھ پرکاش،، کے اعتراضات کی حقیقت پنڈت دیا نند صاحب بانی آریہ سماج نے اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں مسیحیت اور اسلام پر بہت سے اعتراض کئے ہیں۔ہمارا ارادہ ہے کہ جو اعتراضات سوامی صاحب نے اپنی لاعلمی سے اسلام پر کئے ہیں، اس مضمون میں ان کا جواب دیا جائے اور اسلامی تعلیم کو اصل رنگ میں پیش کر کے دکھایا جائے کہ کیا اس پر کسی قسم کے اعتراض پڑتے ہیں یا پنڈت صاحب نے محض تعصب سے اپنے دماغ سے اس قسم کے اعتراض پیدا کئے ہیں۔اعتراض اول پنڈت صاحب کا سب سے پہلا اعتراض بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پر ہے۔اپنے آپ کو محقق قرار دے کر اس پر یوں اعتراض کئے ہیں۔محقق۔مسلمان لوگ ایسا کہتے ہیں کہ یہ قرآن خدا کا کلام ہے لیکن اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بنانے والا کوئی دوسرا شخص ہے کیونکہ اگر خدا کا بنایا ہوا ہوتا تو شروع ساتھ نام اللہ کے“ ایسا نہ کہتا بلکہ ” شروع واسطے ہدایت انسانوں کے ایسا کہتا۔یہ اعتراض کرنے سے پنڈت صاحب کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ اس میں مخاطب خدا ہے، اس لئے یہ خدا کا کلام نہیں ہو سکتا بلکہ انسان کا ہے کیونکہ اگر خدا نازل کرنے والا ہوتا تو قرآن شریف ایسی طرز سے شروع ہوتا جس میں یوں معلوم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ بول رہا ہے لیکن اس آیت سے الٹا یوں معلوم ہوتا ہے کہ بندہ بول رہا ہے اور خدا مخاطب ہے۔پس معلوم ہوا کہ یہ کلام انسانی ہے۔