انوارالعلوم (جلد 13) — Page 248
۲۴۸ انوار العلوم جلد ۱۳ احمدیت کے اصول تھے، اسے کا بل چھوڑ کر بھاگ جانا پڑا۔مگر بچہ سقہ مع اپنے ساتھیوں کے اپنی ذات میں کوئی خوبی نہ رکھتا تھا وہ محض ایک ہتھیا رتھا۔اس وقت نادر خاں فرانس میں بیمار پڑا تھا اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی۔اگر وہ اس وقت تندرست ہوتا اور آ کر امان اللہ خان کے لئے لڑائی کرتا تو جیسا کہ اس کا ارادہ تھا، امان اللہ خان ہی بادشاہ رہتا مگر وہ ایسے وقت میں افغانستان پہنچا کہ ملک فتح ہونے سے قبل ہی امان اللہ خان وہاں سے بھاگ چکا تھا۔اس نے ملک کو فتح کیا اور باوجود یکہ اس نے اعلان کر دیا تھا کہ میں بادشاہ بنا نہیں چاہتا، لوگوں کے اصرار سے مجبور ہو کر تخت پر بیٹھا اور اپنے لئے نادرشاہ کا نام تجویز کیا پھر ملک کے لئے بہت مفید ثابت ہوا۔ابھی وہ اپنے کام میں مشغول تھا کہ ہندوستان سے ایک وفد جو ڈاکٹر سر محمد اقبال، سر راس مسعود اور سید سلیمان ندوی پر مشتمل تھا وہاں گیا اور واپس آ کر ڈاکٹر سر محمد اقبال نے اخبارات میں یہ بیان شائع کیا کہ اگر غازی نادرشاہ کو دس سال بھی کام کرنے کے لئے مل گئے تو وہ ملک کو کچھ کا کچھ بنا دیں گے لیکن اس کے پانچ یا چھ دن کے بعد ہی کسی ظالم اور غلطی خوردہ نوجوان نے گولی مار کر ان کو قتل کر دیا اور سارا ملک بے اختیار چلا اٹھا کہ آہ ! نادر شاہ کہاں گیا۔یہ ایک ایسی بات ہے کہ جس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔ڈیرہ غازیخان کے ایک جج ہیں جو احمدی نہیں، انہوں نے اپنے علماء کو لکھا ہے کہ اس پیشگوئی سے انکار کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ تم ثابت کر دو کہ مرزا صاحب کی کتابوں میں یہ پیشگوئی درج نہیں اور احمد کی غلط کہتے ہیں۔وگر نہ یہ ایسی صفائی کے ساتھ پوری ہو چکی ہے کہ کوئی تاویل مجھے مطمئن نہیں کر سکتی اور میں اس کی کوئی تاویل سننے کیلئے تیار نہیں۔ایک اور صاحب جو اس علاقہ کے بڑے رئیس ہیں۔وہ جلسہ سالانہ پر قادیان آئے اور جب مجھ سے ملے تو کہنے لگے مجھے یقین نہیں آتا کہ یہ پیشگوئی آپ کی کتابوں میں موجود ہو۔میرے پاس اس وقت اتفاق سے وہ کتاب پڑی تھی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات جمع کئے گئے ہیں میں نے نکال کر دکھا دیا۔کہنے لگے بیشک ٹھیک ہے۔ایسی ہی بیسیوں اور سینکڑوں چیزیں ہیں جن کے ذریعہ حضرت مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ کے تازہ نشانات پیش کئے اور ایسے رنگ میں کہ مخالفوں کو بھی انہیں تسلیم کرنا پڑا۔اس طرح دنیا کے سامنے آپ نے زندہ خدا کا وجود پیش کیا اور خدا کے وجود کے ذہنی نقشہ کو بدل ڈالا۔اب یہ سوال نہیں ہو سکتا کہ خدا ہونا چاہئے یا نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں نے دیکھ لیا ہے کہ خدا ہے اور یہی درجہ ہے ایمان کا جو انسان کے لئے خیر و برکت اور فلاح کا موجب ہو سکتا ہے۔