انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 246

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۴۶ احمدیت کے اصول کاموں کے کرنے کیلئے پھر ہم آپ کو مبعوث کریں گے چنانچہ عبداللہ بن سبا ایک مسلمان تھے جس کا دعویٰ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آسمان پر گئے ہیں اور پھر آئیں گے کیونکہ قرآن مجید میں آپ کے دوبارہ آنے کا ذکر ہے۔تو مسلمانوں پر اس آیت کی وجہ سے اس قدراثر تھا کہ بعض ان میں سے غلطی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانی کے حقیقی رنگ میں قائل تھے مگر چونکہ وہ صحابہ کا زمانہ تھا اس لئے ایسی بات زیادہ چلی نہیں۔حضرت مسیح موعود نے زندہ خدا پیش کیا پس یہی چار کام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کرنے ہیں۔یہی سلسلہ احمدیہ کے اصول ہیں۔اوّل يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايته - اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے نشانات جن سے خدا نظر آتا ہے دنیا کے سامنے پیش کرنا اور بانی سلسلہ احمدیہ نے اپنی پہلی تصنیف براہین احمد یہ میں اس سوال کو اُٹھایا ہے کہ خدا ہونا چاہئے اور ہے میں بڑا فرق ہے۔عقلی دلائل صرف یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ کوئی خدا ہونا چاہئے۔یہ نہیں کہ واقع میں ہے بھی۔جیسے عقل سے صرف بادشاہ کی ضرورت ثابت کی جاسکتی ہے اس کا موجود ہونا نہیں بتایا جا سکتا اور عقلی دلائل سے انسان کا دل مطمئن نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خیال کر سکتا ہے ممکن ہے بعض اور دلائل بھی میرے خلاف ہوں جن کا مجھے علم نہ ہو اس لئے ضروری ہے کہ زندہ خدا کو پیش کیا جائے۔یہ سوال آپ نے اس زمانہ میں اُٹھایا جب باوجود اس کے کہ اس امت میں کئی اولیاء ایسے گزرے ہیں جو کلام الہی کے جاری ہونے کے قائل بلکہ اس سے مشرف تھے۔مسلمان یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اب کلام الہی کا دروازہ بند ہو چکا ہے حالانکہ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ میں بھی ایسے لوگ تھے جو کلام الہی سے مشرف تھے۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہی ایک مشہور واقعہ ہے۔آپ کے ایک کمانڈر ساریہ تھے۔آپ کو دکھایا گیا کہ وہ خطرہ کی حالت میں ہیں۔چنانچہ آپ نے خطبہ پڑھتے ہوئے زور سے فرمایا۔يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ يَا سَارِيَةُ الْجَبَلَ " یعنی اے ساریہ پہاڑ کے ساتھ ہو جاؤ اور یہ آواز ساریہ کو شام میں سنائی دی جب کہ وہ فی الواقع خطرہ میں تھے۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اپنی فوج کو ہلاکت سے بچا لیا۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ساریہ کی حالت کشف کے ذریعہ دکھائی گئی۔اسی طرح ہزار ہا واقعات ہیں مگر ان سب کے باوجود مسلمان مایوس ہو چکے تھے کہ ہم میں اب خدا کا کلام سننے کی اہلیت نہیں۔سب ترقیات پرانے لوگوں سے ہی وابستہ تھیں مگر جماعت احمد یہ کے بانی نے آکر یہ بات پیش کی کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔اگر انسان آب