انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 203

انوار العلوم جلد ۱۳ اہم اور ضروری امور بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّ عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اہم اور ضروری امور (فرموده ۲۷۔دسمبر ۱۹۳۳ء بر موقع جلسه سالانه قادیان) تشہد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔برادران ! السَّلَامُ عَلَيْكُمْ اپنی صحت کے متعلق انسان اپنی کمزوریوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے ارادوں کو نہیں جان سکتا۔اس سال نومبر کے مہینہ میں دو دفعہ مجھے انفلوئنزا کی شکایت ہوئی مگر میں نے اُس وقت چونکہ تمام ملک میں بخار پھیلا ہوا تھا اس تکلیف کو زیادہ محسوس نہ کیا کیونکہ کہتے ہیں ”مرگ انبوہ جتنے دارو اور یوں بھی اس دفعہ دیکھا کہ باوجود دو دفعہ تیز بخار آنے کے بخار نے جلدی چھوڑ دیا اور جلد طبیعت صحت کی طرف عود کر آئی۔کئی سال سے صحت کی خرابی کی وجہ سے بعض دفعہ تھوڑے، بعض دفعہ زیادہ رمضان کے روزے رہ جاتے تھے اس دفعہ جب رمضان آیا تو مجھے اپنے اندر طاقت زیادہ محسوس ہوئی اور میں نے کہا کہ جہاں تک اجتہاد انتہائی حد کو پہنچ سکے اس کے مطابق سارے روزے رکھنے کی کوشش کروں گا اور ایک روزہ بھی نہ چھوڑوں گا۔مگر انسان خیال کچھ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کچھ اور ہوتی ہے۔دوسرے روزہ کے خاتمہ پر ابھی روزہ کھولا ہی تھا کہ سخت سردی محسوس ہونے لگی اتنی سخت کہ گزشتہ بیماریوں میں مجھے یاد نہیں کبھی اتنی سخت سردی لگی ہو۔سردی صبح تک لگتی رہی اور گرم بوتلوں کے رکھنے سے بھی کم نہ ہوئی۔صبح کو بخار ہو گیا جو ۱۰۳ درجہ سے بھی اوپر تھا ساتھ ہی اس قدر شدید در دیر ہو گیا کہ پہلے کبھی اس کا بھی تجربہ نہ ہوا تھا۔جس طرح اُس دن کی سردی میرے لئے بے مثال تھی، اُس دن در دسر بھی میرے نزدیک بے مثال تھا۔تین چار دن کے بعد حرارت تو جاتی