انوارالعلوم (جلد 13) — Page 200
۲۰۰ انوار العلوم جلد ۱۳ مستورات سے خطاب سادہ لباس پہنا کرتے تھے۔دوسرے دن جب کہ وہ اعلیٰ لباس پہن کر گئے تو عزت کی اونچی جگہ دی گئی اور آپ نے اپنے کپڑوں کو کھلانا شروع کیا۔جب لوگوں نے استفسار کیا تو فرمایا کہ میری نہیں بلکہ میرے لباس کی عزت کی گئی ہے۔ہندوستان میں یہ جو بڑے بڑے حج اور گورنر ہیں ان کو اپنے بڑے لوگوں میں کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ایک فنانشل کمشنر تھا اُس نے تصویر کھنچوانے کے وقت حافظ روشن علی صاحب مرحوم کے پیچھے کھڑا ہونے کی اجازت حاصل کی حالانکہ وہ ہمارے ہندوستان میں جب حاکم تھا بہت جابر اور اعلیٰ عزت کا مالک تھا کیونکہ تنخواہ زیادہ تھی اور لوگ زیادہ پیسوں والے کی عزت کرتے ہیں۔مگر یہ غلط ہے دولت سے عزت حاصل نہیں ہوتی۔خیر ہماری جماعت میں تو ابھی یہ دنیوی عزت آئی ہی نہیں عزت ابھی کہاں۔یاد رکھو حقیقی عزت، روحانیت سے، نیکی ، تقویٰ اور طہارت سے پیدا ہوتی ہے۔ترقی کرنے کا ذریعہ ہی نیک عملی ہے۔عزت خدمت سے حاصل ہوتی ہے۔دینی تعلیم حاصل کرنی چاہئے جس سے قوم اور ملت کو فائدہ ہو۔تم میں سے کتنی ہیں جو خدمت دین اور تبلیغ اسلام کرتی ہیں۔پس خدا اور رسول کی باتیں سنو۔حضرت صاحب کی کتابیں پڑھو ناولوں اور رسالوں کے پڑھنے کی فرصت مل جاتی ہے لیکن دینی کتابوں کیلئے وقت نہیں ملتا ؟ کتنی شرم کی بات ہے کہ آب انگریز تو مسلمان ہو کر اردو سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضرت صاحب کی کتابیں پڑھیں مگر ہماری عورتیں اردو نہیں سیکھتیں اور اگر کچھ مشد بد پڑھ لیتی ہیں تو ناول پڑھنے شروع کر دیتی ہیں۔علم دین سیکھو، قرآن پڑھو، حدیث پڑھو، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں علم و حکمت کی باتیں لکھی ہیں ان سے مفید علم سیکھو، بی اے، ایم۔اے کی ڈگریاں لینی دین کیلئے مفید نہیں ہیں۔پچھلے سال ایک لڑکی جو بی۔اے میں تعلیم پاتی تھی اُسے کہا گیا کہ اپنی ہمجولیوں میں تبلیغ احمدیت کیا کرو اُس نے جواب دیا کہ میں آپس میں تفرقہ ڈالنا پسند نہیں کرتی مگر وہ عالم نہیں جاہل تھی۔اب کیا فائدہ دیا اُسے ایسے علم نے ؟ اگر بعض باتیں سیکھنے کا نام علم ہے تو کیا بعض باتیں لوہاروں اور تر کھانوں کو نہیں آتیں ؟ علم کے معنی ہیں اپنے مطلب کی چیزوں کو حاصل کرنا۔ضرورت پوری کرنے والی ھے کا نام علم ہے۔ایک بی۔اے کو فوج میں بھرتی نہ کیا گیا اس لئے کہ وہ فوجی کرتبوں سے ناواقف تھا اور وہ فوجی لوگوں کا علم نہیں جانتا تھا۔ایک طبیب اگر موسیقی جانتا ہے تو اسے لائق کون کہے گا۔