انوارالعلوم (جلد 13) — Page 190
۱۹۰ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۳ء انوار العلوم جلد ۱۳ بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۳ء فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۳۳ء) تشهد ، تعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے رحم اور فضل سے پھر ہمیں یہاں جمع ہونے اور اس بات کا ذریعہ بنے کا موقع ملا ہے کہ ہر سال انہی دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بلند کرنے کیلئے اُس کے بندے چاروں طرف سے جمع ہو کر يَأْتِيَكَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيقٍ يَأْتَوْنَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيقٍے کا نظارہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے ایام جوانی میں آپ کے والد صاحب اور ہمارے دادا صاحب اکثر اوقات افسوس کا اظہار کیا کرتے تھے کہ میرا ایک بچہ تو لائق ہے ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بڑے بھائی اور ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب ) مگر دوسرا لڑکا ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ) نالائق ہے۔کوئی کام نہ اُسے آتا ہے اور نہ وہ کرتا ہے۔مجھے فکر ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ کھائے گا کہاں سے؟ یہاں سے جنوب کی طرف ایک گاؤں ہے کا ہلواں اس کا نام ہے وہاں کا ایک سکھ مجھ سے اکثر ملنے آیا کرتا تھا۔اُسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایسی محبت تھی کہ باوجود سکھ ہونے کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قبر پر جا کر سلام کیا کرتا تھا دُعا کا طریق اِن میں نہیں۔خلافت کے ابتدائی ایام میں جب کہ ۹ - ۱۰ بجے کے قریب ڈاک آیا کرتی تھی اور میں مسجد مبارک میں بیٹھ کر ڈاک دیکھا کرتا تھا ایک دن وہ سکھ اُس وقت جب کہ میں ڈاک دیکھ رہا تھا آیا اور مسجد مبارک کی سیڑھیوں پر سے ہی مجھے دیکھ کر چیخ مار کر کہنے لگا آپ کی جماعت نے مجھ پر بڑا ظلم