انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 165

ܬܪܙ انوار العلوم جلد ۱۳ رحمة للعالمين انہی لوگوں میں سے ایسے لوگ دیکھے جن کے دل خدا کے نور سے پُر تھے ، ان کی آنکھیں نہ تھیں مگر وہ بینا لوگوں سے زیادہ تیز نظر رکھتے تھے ، ظاہری کان نہ تھے مگر ان کی سماعت غضب کی تیز تھی ، ہاتھ نہ تھے مگر جس نیکی کو پکڑتے تھے چھوڑنے کا نام نہ لیتے ، پاؤں نہ تھے مگر نیکی کی راہوں پر اس طرح چلتے تھے جس طرح تیز گھوڑا دوڑتا ہے۔مگر باوجود ان کے اچھے ارادوں اور میسر شدہ سامانوں کے مطابق کوشش کرنے کے پھر بھی وہ اس قسم کے عمل نہیں کر سکتے تھے جو تندرست اور طاقت رکھنے والے لوگ کر سکتے ہیں اور اس لحاظ سے وہ ظاہر پینوں کی نگہ میں نکھے اور نا کارہ نظر آتے تھے۔میں نے دیکھا ان کو ہاتھوں کے نہ ہونے کا اس قد رصد مہ نہ تھا جس قدر اس کا کہ وہ ان نیک کاموں کو بجا نہیں لا سکتے کہ جن میں ہاتھ کام آتے ہیں، انہیں آنکھوں کے جانے کا اس قد رصدمہ نہ تھا جس قدر اس کا کہ وہ ان نیک کاموں سے محروم ہیں جن میں آنکھیں کام آتی ہیں غرض ہر کمزوری جو ان میں پائی جاتی تھی خود اس کمزوری کا ان کو احساس نہ تھا لیکن اس کمزوری کے نتیجہ میں جس قسم کی نیکیوں سے وہ محروم رہتے تھے ان کا اُن کو بہت احساس تھا۔میں نے ان لوگوں کو ہزار بدصورتیوں کے باوجود خوبصورت پایا اور ہزار عیوں کے باوجود کامل دیکھا اور میں جوش سے کہہ اٹھا کہ باوجود مذاہب کے اختلاف کے اس میں تو کسی کو اختلاف نہ ہوگا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نہایت خوبصورت مخلوق ہے۔ان کے عیب پر ہزار کمال قربان ہو رہا ہے اور یہ لوگ ثابت کر رہے ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ فضل کرے تو میلے کے ڈھیر پر بھی پاکیزہ روئیدگی پیدا ہوسکتی ہے مگر میری حیرت کی حد نہ رہی کہ جب ایک جماعت مجھ سے اس بارہ میں بھی اختلاف پر تیار ہوگئی اور بعض نے کہا کہ ایسے ناپاک لوگوں کو آپ اچھا کہتے ہیں ان سے تو الگ رہنے کا حکم ہے اور ان کے ساتھ مل کر کھانا تک ناجائز ہے اور نہ ان سے چھونا درست ہے۔ایک اور جماعت بولی یہ اپنے گذشتہ اعمال کی سزا بھگت رہے ہیں یہ خدا تعالیٰ کے پیارے کس طرح ہو گئے بلکہ انہوں نے ان کے گناہ تک گنائے کہ گذشتہ زندگی میں فلاں گناہ کر کے آنکھیں ضائع ہوئیں فلاں گناہ کر کے کان ضائع ہوئے وغیر ذالک۔اور بعض نے ہنس کر کہا کہ خیر یہ تو بیوقوفی کی باتیں ہیں اصل میں ان پر دیوسوار ہیں۔ہمارے خدا وندان دیووں کو نکالا کرتے تھے اور ان کے بعد ان کے شاگرد۔مگر اب ایسے لوگ ہم میں موجود نہیں رہے۔میں نے کہا الہی دنیا کو کیا ہو گیا ہے یہ دل کے اندھے آنکھوں کے اندھوں پر اور دل کے بہرے کانوں کے بہروں پر ہنستے ہیں۔یہ بدصورت اور کریہہ المنظر لوگ ان اپاہجوں کے حُسن کو کیا جانیں جن کے دل تیرے نور