انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 100

: انوار العلوم جلد ۱۳ میری ساره منسوب کی اور تیری طرف کمزوری، حیات اپنی طرف منسوب کی اور تیری طرف موت مگر اے میرے مالک! اے میرے آقا! تو نے مجھے آنکھیں دیں اور اپنے فضل سے بینا کیا ، جب میں مرتا تھا تو نے مجھے زندہ کیا اور جب میں شک کی تاریکیوں میں کھول رہا تھا تو نے مجھے یقین کا نور بخشا، اے میرے پیارے! پھر کب میں نادانوں کے ساتھ شامل ہو سکتا اور اندھوں کے ساتھ بھٹک سکتا ہوں ، اے آقا ! سب طاقت تیری طرف سے ہے، سب حکمت تیری طرف سے ہے، سب حیات تیری طرف سے ہے، سب زندگی تیری طرف سے ہے، سب نور تیری طرف سے ہے، سب علم تیری طرف سے ہے، میں نادان ، کمزور، کم علم، پر شکستہ، تہی دست، تیرے قدموں پر گرتا ہوں ، کوئی ہد یہ نہیں کہ پیش کروں ، کوئی خدمت نہیں کہ بیان کروں ، صرف اتنا کہتا ہوں اور کہتا چلا جاؤں گا کہ مجھے اپنا بنالے صرف اپنا بنا لے، اپنی سبوحیت کیلئے چن لے، اپنی قدوسیت کیلئے انتخاب کرلے، اپنے ذکر کیلئے وقف کر دے، میرے آقا! نور کی تعریف ظلمت کے منہ سے بہت ہی اچھی لگتی ہے، خوبی کو عیب کی موجودگی سے چار چاند لگ جاتے ہیں ، محبت وہ جو ہر ہے جو گندہ نہیں ہوسکتا ، پاک محبت غلیظ برتن میں بھی پاک ہی رہتی ہے اور قبول کرنے کے قابل اور تجھ سے زیادہ قدر کرنے والا کون ہے؟ مرحومہ کیلئے دعا اے میرے رب ! میں اب اپنی پکار کو اُس وقت کیلئے ختم کرتا ہوں۔کیونکہ تیرے آگے کی فریاد کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتی۔اے میرے آقا ! میں اس فریاد کے خاتمہ پر تیرے سامنے ایک تیرا ہی کلام پیش کرتا ہوں اور کلام بھی وہ جو تو نے اپنے محبوب سَيَدُولُدِ آدَمَ پر نازل کیا تھا۔اے میرے رب! ایک حدیث قدسی میں ہے کہ ایک غار میں تین آدمی بارش سے پناہ لینے کیلئے داخل ہوئے۔ان کے غار میں داخل ہونے کے بعد ہوا کے زور سے ایک بڑی چٹان لڑھک کر غار کے دروازہ پر آگری اور دروازہ بالکل بند ہو گیا اور نکلنے کا کوئی راستہ باقی نہ رہا۔تب اے میرے پیارے! انہوں نے مشورہ کیا اور کہا کہ آؤ ہم اپنے ان اعمال کا واسطہ دے کر خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ جو خالص اللہ تعالیٰ کیلئے تھے تا اللہ تعالیٰ اس مصیبت سے ہمیں بچائے۔پس اے میرے رب ! ان تینوں نے باری باری اپنا ایک ایک عمل جسے وہ سمجھتے تھے کہ خالصہ تیرے لئے تھا، یاد کرا کرا کے دعا کی اور ہر شخص کی دعا کے بعد تو نے ایسے سامان پیدا کر دئیے کہ غار کے منہ کے آگے کا پتھر ڈھلکتا گیا یہاں تک کہ آخر ان کے نکلنے کا راستہ ہو گیا اور وہ تینوں مسافر اس ہولناک موت سے نجات پاگئے۔اے میرے آقا! یہ وہ خبر