انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 99

انوار العلوم جلد ۱۳ ۹۹ میری ساره کی پیشگوئی پوری ہوتی رہے گی ، بنگال اور بہار کے لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان میں شامل رہیں گے۔میں مبالغہ نہیں کرتا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا صلى الله ہے۔حضرت ابراہیم کی بیوی ہاجرہ مصر کی تھیں رسول کریم ﷺ ان کی اولاد سے تھے جب مصر کا ذکر رسول کریم ﷺ فرماتے تو فرماتے مصری ہمارے رشتہ دار ہیں، ان کا لحاظ رکھنا چاہئے۔اپنے آقا اور مالک سے خطاب اب میں بندوں سے باتیں ختم کرتا ہوں اوراسے میرے رب! میں تجھ سے مخاطب ہوتا ہوں۔اے میرے مولا ! اے میرے پیارے! میں نے تیرے رحم کا اس قدر معائنہ کیا ہے کہ میں ایک منٹ کیلئے بھی یقین نہیں کر سکتا کہ سارہ بیگم کی وفات کوئی بُر افعل تھا۔میں یقین کرتا ہوں اور یقین کرنے کی وجو ہات پاتا ہوں کہ اے اَرحَمُ الرَّاحِمِينَ! یہ وفات مرحومہ کیلئے ، میرے لئے ، میرے اور اس کے خاندان کیلئے یقینا تیرا ایک رحم و کرم کا فعل تھا۔اے میرے پیارے! کمزور جسم بوجھ محسوس کرتا ہے ، گوشت کا بنا ہوا دل درد سے بھرا ہوا ہے ، مگر روح تیرے فعل کی حکمتوں کی قائل ہے وہ تیرے محبت کے انداز کو اس فعل میں بھی دیکھتی ہے ، وہ اس امر اور ہر امر پر جو تیری طرف سے آئے ، راضی ہے قانع ہے، مطمئن ہے۔اے بادشاہ! تیری مرضی پر راضی ہونے میں ہی سب برکت ہے، سب خیر ہے، جاہل انسان تیری حکمتوں کو کب دیکھ سکتا ہے، نادان عقل تیرے افعال کی گہرائیوں کو کب پہنچ سکتی ہے، پر شکتہ فکر کی پرواز تیرے علم کے بلند کناروں کو کب پاسکتی ہے۔اے آقا! کون اپنی بنائی ہوئی عمارت کو گراتا ہے، کون اپنے کئے ہوئے کام کو خراب کرتا ہے، پھر اے عقل و فہم کے خالق ! اے زیر کی ودانائی کے پیدا کرنے والے! یہ کیونکر تیری شان کے شایان ہوسکتا ہے کہ بلا حکمت اپنی صنعت کو تو ڑ دے، اپنے بنائے ہوئے کو بگاڑ دے، سنار جب سونے کی ڈلی کو پگھلاتا ہے، عطار جب دواؤں کو گوٹتا اور چھانتا ہے تو بے وقوف ہی اس پر اعتراض کر سکتا ہے، اس کے پگھلانے اور اس کے گوٹنے میں ہزاروں صنعتیں پوشیدہ ہوتی ہیں، لاکھوں ظہور چھپے ہوئے ہوتے ہیں ، پھر اے حکیم و عزیز خدا! تیرے مٹانے اور تیرے توڑنے میں کتنے فوائد پوشیدہ نہ ہوں گے، کتنے منافع مد نظر نہ ہوں گے؟ آہ! تو نے انسان کے ہاتھوں سے تڑ وایا اور پھر بنوایا، اس کے ہاتھوں سے مٹوایا اور پھر روشن کر وایا مگر نادان پھر بھی نہ سمجھے ، دلوں کے اندھے پھر بھی بینا نہ ہوئے ، انہوں نے حُسن اپنی طرف منسوب کیا اور تیری طرف بدصورتی ، طاقت اپنی طرف