انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 518

۵۱۸ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سادہ زندگی ظاہر کریں گے اور خوب وظائف پڑھیں گے- مگر آنحضرت ﷺ باوجود اس کے کہ سب سے اتقی اور اورع تھے اور آپ کے برابر خشیت اللہ کوئی انسان پیدا نہیں کر سکتا مگر باوجود اس کے آپ ان سب باتوں میں سادہ تھے اور آپ کی زندگی بالکل ان تکلفات سے پاک تھی- بچہ کے رونے پر نماز میں جلدی ابی قتادہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا- انی لاقوم فی الصلوة ارید ان اطول فیھا فاسمع بکاء الصبی فاتجوز فی صلوتی کراھیة ان اشق علی امہ ۱؎ یعنی میں بعض دفعہ نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور ارادہ کرتا ہوں کہ نماز کو لمبا کر دوں مگر کسی بچہ کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اپنی نماز کو اس خوف سے کہ کہیں میں بچہ کی ماں کو مشقت میں نہ ڈالوں‘ نماز مختصر کر دیتا ہوں- کس سادگی سے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہم بچہ کی آواز سن کر نماز میں جلدی کر دیتے ہیں- آج کل کے صوفیاء تو ایسے قول کو شائد اپنی ہتک سمجھیں کیونکہ وہ تو اس بات کے اظہار میں اپنا فخر سمجھتے ہیں کہ ہم نماز میں ایسے مست ہوئے کہ کچھ خبر ہی نہیں رہی اور گو پاس ڈھول بھی بجتے رہیں تو ہمیں کچھ خیال نہیں آتا- مگر آنحضرت ﷺ ان تکلفات سے بری تھے- آپ کی عظمت خدا تعالیٰ کی دی ہوئی تھی نہ کہ انسانوں نے آپ کو معزز بنایا تھا- یہ خیال وہی کر سکتے ہیں جو انسانوں کو اپنا عزت دینے والا سمجھتے ہوں- جوتیوں سمیت نماز پڑھنا حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ انہ سئل اکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فی نعلیہ قال نعم- ۲؎یعنی آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم ﷺ جوتیوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے- آپ نے جواب دیا کہ ہاں پڑھ لیتے تھے- اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح تکلفات سے بچتے تھے اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ وہ مسلمان جو ایمان اور اسلام سے بھی ناواقف ہیں اگر کسی کو اپنی جوتیوں سمیت نماز پڑھتے دیکھ لیں تو شور مچا دیں اور جب تک کوئی ان کے خیال کے مطابق کل شرائط کو پورا نہ کرے وہ دیکھ بھی نہیں سکتے- مگر آنحضرت ﷺ جو ہمارے لئے اسوہحسنہ ہیں آپ کا یہ طریق تھا بلکہ آپ واقعات کو دیکھتے تھے نہ تکلفات کے پابند تھے- اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے طہارت اور پاکیزگی شرط ہے- اور یہ بات قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے پس جو جوتی پاک ہو اور عام جگہوں پر جہاں نجاست کے لگنے کا خطرہ ہو پہن کر نہ گئے ہوں تو اس میں ضرورت کے وقت نماز پڑھنے میں کچھ حرج نہیں اور آپ نے ایسا کر کے