انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 504 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 504

۵۰۴ سوم یہ کہ رجال ہوں- یعنی قوت وطاقت‘ عقل و فہم سے کام کرنے والے ہوں- چوتھے ایسے طرز سے کام کریں کہ وحی نازل ہونے لگ جائے- وحی کیلئے ضروری نہیں کہ آسمان سے ہی نازل ہو یہ تو وحی کا انتہائی درجہ ہے باقی ہر قسم کی وحی اس کے اندر شامل ہے- جب کہ ایم- اے کی ڈگری میں بی- اے اور ایف اے- سب امتحان شامل ہیں تو آسمانی وحی سے نچلے درجہ کی سب وحیاں اس میں آ جاتی ہیں- جس قسم کا کوئی انسان کام کرتا ہے اس کے مطابق خفی‘ جلی‘ قلبی وحی کے ذریعہ نئے نئے طریق اسے اللہ تعالیٰ سکھاتا ہے- آخری بات یہ ہے کہ وہ وحی ترقی کرتے کرتے من السماء کے درجے تک پہنچ جائے- اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جو سچے دل سے اور اخلاص سے کارکن کام کریں گے ان پر وحی من السماء کا دروازہ کھول دے گا- یہ تو کام کی ابتداء ہے کہ کس قسم کے لوگ سلسلہ میں آئیں گے اور کس طرح کام کریں گے- دوسرے الہام میں یہ مقصود بتایا کہ ‘’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا-’‘۳؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقصد خدا تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ تیری تبلیغ دنیا کے کناروں تک پہنچ جائے- اب اگر دنیا میں کوئی جگہ ایسی رہ جائے جہاں آپ کا پیغام نہ پہنچا ہو تو گویا مقصد ابھی پورا نہیں ہوا- ہمارا مقصد یہی ہے کہ ہر جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تبلیغ پہنچائیں- امورعامہ‘ تعلیم وتربیت‘ قضاء وغیرہ کسی کا کام ہو یہ سب دعوت و تبلیغ کے ماتحت آ جائیں گے- خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے متعلق ‘’تیری تبلیغ’‘ کے الفاظ استعمال کر کے یہ بتایا کہ: ٍ (۱) تیرے نام کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا- یعنی اس تبلیغ کو جو تیری طرف منسوب ہو گی- (۲) یہ بتایا کہ جو تبلیغ تو کر رہا ہے وہی تبلیغ اسلام ہے- اسے دنیا تک پہنچاؤں گا- گویا اسلام اور احمدیت کی تبلیغ ہمارا فرض ہے- پس ساری دنیا کو اسلام کا حلقہ بگوش بنانا ہمارا کام ہے- مگر قرآن سے پتہ لگتا ہے کہ تمام کے تمام لوگ اسلام نہیں لائیں گے- ادھر ہمیں یہ حکم ہے کہ جب تک یہ سب نہ مان لیں تمہارا کام ختم نہیں ہوتا اس لئے مطلب یہ ہوا کہ قیامت تک ہمیں کام کرنا ہے اور کسی وقت