انوارالعلوم (جلد 12) — Page 478
۴۷۸ اسے سب لوگ مان لیں گے پھر کس قدر حیرت کا مقام ہے کہ آپ پر ایمان لانے کا دعویٰ رکھنے والا ایک شخص اگر یہ کہے کہ لوگ مانتے نہیں اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرے- اللہ تعالیٰ تو یہاں تک فرماتا ہے کہ ساری دنیا مان لے گی اور نہ ماننے والے چوہڑے چماروں کی طرح رہ جائیں گے- اگر اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ سچا ہے اور یقیناً سچا ہے تو اس وقت لوگوں کا نہ ماننا ایک عارضی بیماری ہے اور دنیا میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اپنے بیمار بچہ یا بیمار عزیز کا علاج اس لئے چھوڑ دے کہ اسے جلد آرام نہیں آتا- لوگ علاج کرتے جاتے ہیں حتیٰ کہ یا موت واقعہ ہو جاتی ہے اور یا صحت- اور جب جسمانی امراض میں یہ طریق اختیار کیا جاتا ہے کہ مشیت الٰہی کا انتظار کیا جاتا ہے تو کیا وجہ ہے مایوس ہو کر روحانی امراض کے علاج میں سستی یا کوتاہی کی جائے- چاہئے کہ جب تک موت واقعہ نہ ہو جائے اس وقت تک کوشش ترک نہ کی جائے- پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ تبلیغ نہایت اہم کام ہے اور اس وقت کا جہاد ہے- تم میں سے کتنے ہیں جو خواہش کرتے ہیں کہ کاش ہمیں جہاد کا موقع نصیب ہوتا اور کتنے ہیں جو مخالفوں کی کامیابی سن کر پیچ و تاب کھاتے ہیں کہ کاش ہمیں اجازت ہوتی اور ہم بھی مقابلہ کرتے- میں ایسے دوستوں کو بتاتا ہوں کہ اس زمانہ کا جہاد یہی ہے- ہم مارنے کے لئے پیدا نہیں کئے گئے بلکہ مار کھانے کیلئے پیدا کئے گئے ہیں اور جب تک استقلال نہیں دکھائیں گے کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور جو اپنے اندر استقلال پیدا کر لیں گے تو خدا تعالیٰ ان کیلئے غیر معمولی نصرت کی راہیں کھول دے گا اور پتھر سے بھی سخت دل موم سے بھی زیادہ نرم ہو جائیں گے- احمدیت کی ترقی کے متعلق اللہ تعالیٰ کے کلام پر اتنا تو ایمان رکھو کہ سال دو سال ہی اس پر عمل کر کے دیکھ لو- جن لوگوں کو خدا تعالیٰ سے محبت ہوتی ہے‘ وہ تو اس کے کلام اور اس کے نام پر اپنے آپ کی بھی تکذیب کر لیتے ہیں- حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کسی کو چوری کرتے دیکھا اور اس سے دریافت کیا- لیکن اس نے کہا! خدا کی قسم ہے میں نے چوری نہیں کی- اس پر آپ نے کہا کہ تو سچا ہے‘ میری آنکھوں نے غلطی کی ہو گی- یہ صرف خدا کا نام درمیان میں آ جانے کی وجہ سے کہا- چہ جائیکہ اس کا کلام موجود ہو اور اس پر یقین نہ ہو- خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دنیا کی اصلاح کیلئے مبعوث کیا ہے اور آپ کی کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے اس لئے یہ خیال کہ لوگ نہیں مانیں گے‘ بالکل غلط ہے- لوگ