انوارالعلوم (جلد 12) — Page 477
۴۷۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم احمدیت کی کامیابی پر یقین رکھو اور محبت و اخلاق سے دلوں کو فتح کرو (فرمودہ ۲۹ دسمبر ۱۹۳۱ء بمقام مسجد اقصیٰ قادیان) ۱؎ تشہد و تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا-: رسول کریم ﷺ سے کسی نے دریافت کیا تھا کہ اچھی عبادت کون سی ہے- آپﷺ نے فرمایا جس پر مداومت اختیار کی جائے-۲؎ اور اصل بات بھی یہی ہے کہ بہتر نیکی وہی ہے جسے انسان نبھا سکے- تبلیغ کا کام ایسا ہی ہے جیسے دریا کا پانی گر گر کر پتھروں کے کونوں کو رگڑ رگڑ کر گھسا دیتا ہے اور ظاہر ہے یہ کام ایک دو دن کا نہیں بلکہ سالہا سال کا ہے- قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر مومن دل‘ پتھر بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں اور جب پتھروں کو ٹھیک کرنے کیلئے سالہا سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے تو دلوں کیلئے ظاہر ہے کس قدر لمبے عرصہ کی ضرورت ہو گی- بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ جب ہم نے تبلیغ کر دی تو کیا وجہ ہے کہ سچی بات کو دوسرا قبول نہ کرے- یاد رکھنا چاہئے کہ حق کی مخالفت سوائے شاذو نادر لوگوں کے کوئی نہیں کیا کرتا- مخالفت لوگ اسی لئے کرتے ہیں کہ اسے غیر حق یقین کرتے ہیں- بے شک حق کی مثال آفتاب کی ہے لیکن جسے وہ نظر ہی نہ آئے اسے مار کر نہیں دکھایا جا سکتا بلکہ ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ اس کی آنکھوں کا ایک لمبے عرصہ تک علاج کیا جائے- بعض دوست اس وجہ سے مایوس ہو جاتے ہیں کہ ہماری بات کوئی سنتا نہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ جب خدا تعالیٰ نے اپنے مسیح کو بھیجا اور اس سے وعدہ کیا کہ ‘’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا’‘۳؎ تو یہ ضرور ہو کر رہے گا- اللہ تعالیٰ کی گواہی ہے کہ