انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 463

۴۶۳ غوی باطنی فساد کے لئے- جو فساد اعتقاد سے پیدا ہو- فرمایا جو بے جڑ کی بوٹی ہو- اس پر تو جتنے زیادہ دن گذریں اس میں کمزوری آتی جاتی ہے- اگر محمد رسول اللہ ﷺ کا خدا سے تعلق نہ ہوتا تو اس کی جڑ مضبوط نہ ہوتی اور یہ کمزور ہوتا جاتا اور خرابی پیدا ہو جاتی- مگر تم دیکھتے ہو کہ جوں جوں دن گذر رہے ہیں اسے زیادہ سے زیادہ طاقت حاصل ہو رہی ہے اور یہ دن رات ظاہری اور باطنی طور پر ترقی حاصل کر رہا ہے- اگر ضلالت اس کے اندر ہوتی تو اس پر ضلالت والا کلام نازل ہوتا- مگر اس پر جو کلام نازل ہوا ہے- اسے دیکھو کیا اس میں کوئی بھی ہوائے نفس کا نشان ملتا ہے اگر یہ غاوی ہوتا تو شیطانی اثر اس کے کلام پر ہوتا- لیکن اس کا کلام تو پرشوکت اور قادرانہ کلام پر مشتمل ہے- شیطانی تعلقات والا انسان دنیا پر تصرف کیسے حاصل کر سکتا ہے- یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے سورۃ ضحیٰ میں بیان کیا ہے- فرماتا ہے- وللاخرة خیر لک من الاولی ۷۷؎تیری ہر پیچھے آنے والی گھڑی پہلی سے بہتر ہے- اب کیا یہ عجیب بات نہیں کہ یہاں تو کہا کہ تیری ہر پچھلی گھڑی پہلی گھڑی سے اچھی ہوتی ہے لیکن اسی سورۃ میں کہہ دیا کہ تو گمراہ تھا- آیا پچھلی گھڑی کا پہلی سے اچھی ہونا ضلالت کی دلیل ہوتا ہے؟ سورۃ ابراہیم رکوع۴ میں آتا ہے- الم ترکیف ضرب اللہ مثلا کلمة طیبة کشجرة طیبة اصلھا ثابت و فرعھا فی السماء ۷۸؎کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ کیسی باتیں بیان کرتا ہے- پاک کلمہ کی مثال ایک پاک درخت کی سی ہوتی ہے جس کی جڑ میں بڑی مضبوطی ہوتی ہے- اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہوتی ہیں- اسی طرح صادق کی علامت یہ ہے کہ اس کی تعلیم ترقی کرتی ہے اور اس کی جماعت بڑھتی جاتی ہے- اب یہ رسول جو دن رات ترقی کر رہا ہے- اگر ضلالت پر ہوتا- تو جتنی زیادہ تعلیم بناتا- اسی قدر زیادہ نقص ہوتے- مگر اس کے کلام کی زیادتی تو اس کی تعلیم کو مکمل بنا رہی ہے- پھر بتایا- اگر یہ غاوی ہوتا تو شیطانی اثر اس کے کلام پر ہوتا- مگر اس کا کلام تو ایسا ہے کہ وہ وما ینطق عن الھوی- ان ھو الاوحی یوحی- علمہ شدید القوی ۷۹؎ یہ اپنی خواہش نفسانی سے کلام نہیں کرتا بلکہ اس کا پیش کردہ کلام صرف خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی ہے اور اس کو یہ کلام بڑی قوتوں والے خدا نے سکھایا ہے- ایک اور آیت بھی اس امر کو حل کرتی ہے- سورہ بنی اسرائیل رکوع۸ میں آتا ہے-