انوارالعلوم (جلد 12) — Page 443
۴۴۳ بادشاہت کس طرح قائم رہے گی- کیونکہ تم میری بابت کہتے ہو کہ یہ بدروحوں کو بعل زبول کی مدد سے نکالتاہے’‘-۳۹؎ یہاں حضرت مسیح نے ایک قانون پیش کیا ہے- جب ان کے متعلق کہا گیا کہ وہ شیطان کو شیطان کی مدد سے نکالتے ہیں تو انہوں نے کہا- شیطان شیطان کو کیوں نکالے گا؟ اس قانون کے ماتحت غور کر لو کہ کیا قرآن کسی یہودی یا عیسائی کا بنایا ہوا نظر آتا ہے- اگر کسی عیسائی کا بنایا ہوا ہوتا تو عیسائیت کے رد سے کس طرح بھرا ہوا ہوتا؟ اور اگر کسی یہودی نے بنایا ہوتا تو اس میں یہودیت کا کس طرح رد ہوتا؟ عیسائیت کا کوئی فرقہ بتا دو اس کا رد قرآن سے دکھا دیا جائیگا- اسی طرح کوئی یہودی فرقہ پیش کرو- اس کا رد قرآن میں موجود ہے- کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ کوئی عیسائی اور یہودی اپنے مذہب کی آپ تردید کرے گا- قرآن پورے طور پر عیسائیت کو رد کرتا ہے- ہم دور نہیں جاتے پہلی سورۃ میں ہی قرآن نے عیسائیت کی جڑیں اکھیڑ کر رکھ دی ہیں- پہلی سورت جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی یہ ہے-: اقرا باسم ربک الذی خلق- خلق الانسان من علق- اقرا وربک الاکرم- الذی علم بالقلم- علم الانسان مالم یعلم- کلا ان الانسان لیطغی- ان راہ استغنی- ان الی ربک الرجعی- ارئیت الذی ینھی- عبدا اذا صلی- ارئیت ان کان علی الھدی- او امر بالتقوی- ارئیت ان کذب وتولی- الم یعلم بان اللہ یری- کلا لئن لم ینتہ- لنسفعا بالناصیة- ناصیة کاذبة خاطئة- فلیدع نادیہ- سندع الزبانیة- کلا لا تطعہ و اسجد و اقترب- ۴۰؎ یہ سورۃ جو سب سے پہلی سورت ہے- اسی میں عیسائیت کے تمام مسائل کو رد کر دیا گیا ہے- پہلا حملہ عیسائیت پر یہ ہے کہ فرمایا- خلق الانسان من علق- عیسائیت کی بنیاد اس عقیدہ پر ہے کہ انسان کی فطرت میں گناہ ہے- عیسائیت کہتی ہے- انسان فطرتاً گناہگار ہے اور عمل سے نیک نہیں بن سکتا- اس لئے مسیح کو جو پاک اور بے عیب تھا صلیب پر چڑھا دیا گیا- اسی طرح وہ انسانوں کے گناہ اپنے اوپر اٹھا کر قربان ہو گیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خلق الانسان من علق- انسان کی فطرت میں خدا کی محبت رکھی گئی ہے اور اس کی بناوٹ میں ہی خدا سے تعلق رکھا گیا ہے- اس طرح عیسائیت کا پہلا عقیدہ باطل کر دیا گیا اور بتا دیا گیا کہ کفارہ کوئی چیز