انوارالعلوم (جلد 12) — Page 425
۴۲۵ کلام اللہ کے نام میں منفرد کتاب صرف قرآن کریم ہے غرض قرآن کریم کلام اللہ کے نام میں منفرد ہے- جس طرح کعبہ بیت اللہ کے نام میں دوسرے بیوت سے منفرد ہے- خدا تعالیٰ نے خانہ کعبہ کو بیت اللہ قرار دیا ہے اور قرآن کو کلام اللہ قرار دیا ہے- کعبہ کو بھی یہ نام اس لئے دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے بنوایا تھا- اگر دوسرے مقامات کو بھی خدا تعالیٰ بنواتا تو وہ منسوخ نہ ہوتے- چونکہ دوسرے گھروں نے منسوخ ہونا تھا اس لئے انہیں یہ نام نہ دیا گیا- اسی طرح قرآن کریم نے بھی چونکہ ہمیشہ قائم رہنا تھا- اسے بھی کلام اللہ کی صورت میں نازل کیا گیا اور اسے یہ نام دیا گیا تا کوئی اپنا کلام اس میں داخل نہ کر سکے- اگر کوئی کہے کہ آپ تو کہتے ہیں قرآن میں ساری شریعت موجود ہے مگر یہ درست نہیں کیونکہ قرآن بھی سنت اور حدیث کا محتاج ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ سنت کا مفہوم یہ ہے کہ قرآن میں جو باتیں آئی ہیں رسول کریم ﷺ نے ان پر عمل کر کے دکھا دیا- اور احادیث رسول کریم ﷺ کی تفہیمات ہیں جو قرآن سے ہی حاصل ہوئیں کوئی زائد شئے نہیں- خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی۱۰؎ کہ محمد رسول اللہ ﷺ دین کی کوئی بات اپنی طرف سے نہیں کہتے بلکہ جو کچھ بتاتے ہیں- وحی الہی سے بتاتے ہیں- پس حدیث میں جو کچھ ہے وہ قرآن ہی کی تشریح اور تفہیم ہے- قرآن کریم کی افضلیت کی آٹھویں دلیل اب میں قرآن کریم کی فضیلت کی آٹھویں دلیل بیان کرتا ہوں جو یہ ہے کہ ہر کلام جو نازل ہوتا ہے- اس کی عظمت اور افضلیت اس لانے والے کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہے جس کے ذریعے وہ آتا ہے- کیونکہ پیغامبر پیغام کی حیثیت سے بھیجے جاتے ہیں- مثلاً ایک بادشاہ جس نے اپنے کمرہ کی صفائی کرانی ہے- وہ چوبدار سے کہے گا کہ صفائی کرنے والے کو بلاؤ- لیکن اگر اسے یہ کہنا ہوگا کہ فلاں بادشاہ کو ملاقات کیلئے بلاؤ- تو چوبدار سے نہیں کہے گا- بلکہ وزیر سے کہے گا اور وہ یہ پیغام پہنچائے گا کہ بادشاہ کی خواہش ہے کہ آپ سے ملاقات کریں- غرض پیغام کی افضلیت پیغامبر کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے- سفراء جو بادشاہوں کے خطوط لے کر جاتے ہیں ان کے متعلق بھی یہ دیکھا جاتا ہے کہ بلند پایہ رکھنے والے ہوں-