انوارالعلوم (جلد 12) — Page 377
۳۷۷ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم چھوٹے اور بڑے سب مل کر کام کرو مورخہ ۱۵-نومبر ۱۹۳۱ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی قیام گاہ پر ممبرات لجنہ اماء اللہ مزنگ (لاہور)نے حضور کی خدمت میں ایک ایڈریس پیش کیا جس کے جواب میں حضور نے فرمایا-: میں جماعت مزنگ سے خوش ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے اسے نیک کام کرنے کی توفیق ملتی رہے- کشمیر کے چندہ کی وصولی کے متعلق فرمایا-: ‘’اس کام کو جاری رکھنا چاہئے اس طرح کام میں لگے رہنے سے ایک تو انسان لغو باتوں سے بچتا ہے اور دوسرے نیک کاموں کی توفیق ملتی رہتی ہے- اس کے لئے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ یہ ایک دو دن کا کام نہیں- بہت ممکن ہے کہ ایک یا ڈیڑھ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ اس کام کے لئے درکار ہو- پھر یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ ایک ہی دفعہ چندہ کی وصولی کے لئے کوشش کر کے بیٹھ نہیں رہنا چاہئے بلکہ بار بار وصولی کی کوشش کرتے رہنا چاہئے’‘- مورخہ ۲-دسمبر ۱۹۳۱ء کو جماعت احمدیہ مرنگ (لاہور( نے بعد نماز مغرب حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا- جسے میاں محمد یوسف صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ مزنگ نے پڑھا- حضور نے اس کے جواب میں فرمایا-: ‘’مزنگ کی جماعت کے متعلق ایک عرصہ سے جو رپورٹیں مجھے ملتی رہی ہیں‘ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جماعت کام کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے اس لئے آپ کی جماعت اس بات میں تعریف کی مستحق ہے- جماعتوں کی ضرورت ہمیشہ اسی لئے ہوتی ہے کہ وہ تعاون کے ساتھ اور مل کر کام کریں گی- کیونکہ جماعتوں کی ترقی ہمیشہ مشترکہ طاقتوں میں ہوتی ہے- خدا تعالیٰ کے انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ ان کے ذریعہ کمزور اور طاقتور دونوں مل کر کام کریں-