انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 319

۳۱۹ ‏ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم احمدی خواتین کی تعلیمی ترقی (فرمودہ ۱۳- ستمبر ۱۹۳۱ء) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا-: میں سب سے پہلے اپنی‘ اپنے ساتھیوں اور دوسرے مہانوں کی طرف سے لجنہ اماء اللہ کا اس چائے کی دعوت کیلئے شکریہ ادا کرتا ہوں- دعوتیں دنیا میں ہوتی رہتی ہیں اور یہ ایک ایسا رواج ہو گیا ہے جو شاید اپنی کثرت کی وجہ سے بہت سی خوبصورتی کھو بیٹھا ہے لیکن وہ دعوت جو حقیقی جوش اور اخلاق کے نتیجہ میں ہو وہ دل کے لئے نہایت ہی مسرت کا موجب اور قلب کے لئے فرحت کا باعث ہوتی ہے- رسول کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو محبت اور تعلق بڑھانے کا ایک یہ ذریعہ بھی بتایا ہے کہ اگر توفیق ہو تو ایک دوسرے کی دعوت کرتے رہنا چاہئے- ۱؎ خود رسول کریم ﷺ بھی لوگوں کو دعوت پر بلاتے تھے اور اس کو اتنی اہمیت دیتے کہ فرماتے دعوت کا رد کرنا میری سنت کے خلاف ہے۲؎ اور میں چونکہ جانتا ہوں کہ لجنہ کی یہ دعوت اخلاص اور اسی روح کے ساتھ ہے جو رسول کریم ﷺ اپنی امت میں پیدا کرنا چاہتے تھے‘ اس لئے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ ان کھانوں کی قیمت کے مطابق نہیں بلکہ اس نیت کی قیمت کے مطابق ان سے فضل و برکت کا سلوک کرے- سیالکوٹ کی لجنہ باوجود اس کے کہ اس سے پہلے مجھے انہیں مخاطب کرنے کا موقع نہیں ملا لیکن ان کے محترم اور مخلص کارکن جو یہاں کی جماعت کے امیر کی اہلیہ ہیں کے بعض خطوط اور بیانات سے پتہ لگتا ہے کہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کام کرنے والی اور بہت سی لجنہ کیلئے نمونہ ہے بلکہ بسا اوقات مجھے سیالکوٹ کی لجنہ کے کام بتا کر مرکزی لجنہ کو بھی شرمندہ کرنا پڑا ہے- اگرچہ اس میں شک نہیں کہ مرکزی لجنہ کے کام کی نوعیت مختلف ہے لیکن پھر بھی میں سمجھتا ہوں جس