انوارالعلوم (جلد 12) — Page 282
۲۸۲ کیا جائے- میں بھی ان سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی اس تحریر کے مطابق میرے اور اپنے وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں- جب اتمام حجت کے وہ بھی قائل ہیں- تو کیا وجہ ہے کہ مباہلہ سے پہلے اتمام حجت کا موقع دینا وہ پسند نہیں فرماتے؟ اور جب کہ آیت قرآنیہ اور تمام احادیث سے ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ایک جماعت کو ہی مباہلہ کے لئے پیش کیا تھا اور کوئی حدیث اس کے مخالف نہیں- اور ان میں طاقت بھی ہے کہ وہ ایک جماعت کو مباہلہ کے لئے اپنے ساتھ لا سکیں‘ تو باوجود کسی روک کے موجود نہ ہونے کے وہ کیوں احکام قرآنیہ اور دلائل حدیثیہ کے مطابق دونوں فریق کے نمائندہ جماعتوں کے درمیان مباہلہ کئے جانے پر رضامند نہیں ہوتے- میں امید کرتا ہوں کہ وہ اس بحث کو ختم کرتے ہوئے مباہلہ مسنونہ کے لئے تیار ہونے کی مجھے اطلاع دیں گے تا کہ میرے نمائندے ان کے نمائندوں سے مل کر بقیہ امور کا تصفیہ کر لیں- واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین خاکسار میرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی و امام جماعت احمدیہ- قادیان (۱۲- جولائی ۱۹۳۱ء) (الفضل ۱۸- جولائی ۱۹۳۱ء)