انوارالعلوم (جلد 12) — Page 200
۲۰۰ جانتے اور اگر ہو سکے تو اس کی کئی نقلیں کر کے دوسرے گاؤں کے دوستوں کو بھجوا دے اگر پورا خط نقل نہ ہو سکے تو اس کا خلاصہ ہی لکھ کر دوسرے دوستوں کو اطلاع کر دے- ان ہدایات کے بعد میں آپ لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کو خط لکھنے کے علاوہ میں نے اپنے نائبوں کو انگلستان میں بھی تاریں دیں کہ وہ کشمیر کے مظالم کی طرف وہاں کے حکام کو توجہ دلائیں اور کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری کو دہلی بھیجا تا کہ وہ حکومت ہند میں بھی آپ لوگوں کی تکالیف کو پیش کر کے داد خواہی کریں اور اسی طرح اپنے عزیز چوہدری ظفراللہ خان صاحب ممبر راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کو بھی تار دی کہ وہ بھی حکام سے ملیں- چنانچہ یہ لوگ وائسرائے کے پرائیوٹ سیکرٹری اور دوسرے سکرٹریوں اور حکام سے ملے اور انہیں صورت حالات سے آگاہ کیا- اسی طرح ولایت میں خان صاحب فرزند علی خان صاحب امام مسجد لنڈن نے میری ہدایت کے مطابق کوشش کی نتیجہ یہ ہوا کہ حکومت کو دہلی اور لندن دونوں جگہ اصل حقیقت سے آگاہی ہو گئی اور ولایت کے اخبارات نے بڑے ز ور سے یہ لکھنا شروع کر دیا کہ ریاست کا نظام پوری طرح بدل کر مسلمانوں کی داد خواہی کرنی چاہئے- اور حکومت ہند نے بھی اس طرف توجہ کرنی شروع کی چنانچہ تازہ اطلاعات مظہر ہیں کہ اگر وزیراعظم صاحب نے اپنا رویہ نہ بدلا تو شاید وہ چند دن میں اپنے عہدہ سے الگ کر دیئے جائیں گے اور جلد ہی دوسرے افسروں میں بھی مناسب تبدیلی ہو جائے گی جس کے لئے میں میرپور‘ کوٹلی‘ راجوری اور بھمبر کے دوستوں کی خواہش کے مطابق کوشش کر رہا ہوں- میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ جلد کوئی آپ لوگوں کی بہتری کے سامان ہو جائیں گے- میں نے ولایت پھر تار دی ہے کہ وہاں پہلے سے بھی زیادہ پراپیگنڈا کیا جائے اور اصل حالات سے انگریزوں کو واقف کیا جائے- کیونکہ ریاست میں اس قدر ظلم ہوئے ہیں کہ اس انصاف پسند قوم کو اگر ان کا علم ہو گیا تو یقیناً ایک شور پڑ جائے گا اور وہ حکومت پر بے انتہا زور دے گی- میں نے اس سلسلہ میں ایک ولایتی خطوں کا سلسلہ بھی شروع کرنے کا ارادہ کیا ہے- یعنی جس طرح میں آپ کو خط لکھتا ہوں اسی طرح ایک خط پارلیمنٹ کے ممبروں‘ وزراء‘ امراء اور ولایتی اخبارات کے ایڈیٹروں کے نام بھی لکھا کروں گا تا کہ انہیں بھی سب حالات کا علم ہوتا رہے اور ہندوؤں کے غلط پروپیگنڈا سے وہ واقف ہوتے رہیں- مجھے امید ہے کہ میرے ایک دو خطوں سے وہاں شور پڑ جائے گا اور فریب کی چادر جو ریاستی ہندوؤں نے بنی ہے تار تار ہو جائے گی-