انوارالعلوم (جلد 12) — Page 185
۱۸۵ دوسرا مطالبہ جو مقدس مقامات کے متعلق تھا وہ ایک حد تک پورا ہو رہا ہے لیکن اول تو ابھی بہت سے مقدس مقامات واگذار ہونا باقی ہیں- علاوہ ازیں جو مسجد واگذار کی گئی ہے- یعنی پتھر مسجد وہ ایسی خراب حالت میں ہے کہ مسلمانوں پر اس کی مرمت کا بوجھ ڈالنا ایک سزا ہو گا- اس کے متعلق ضروری ہے کہ مسجد کے گرد کا علاقہ بھی اگر اب تک واگذار نہیں ہوا‘ واگذار کیا جائے- نیز ریاست کو چاہئے کہ مسجد کی مرمت کے لئے بھی ایک معقول رقم دے تا کہ مسجد کے احترام اور تقدس کے مطابق اس کی واجبی مرمت کرائی جا سکے- تیسرا مطالبہ بھی مکمل طور پر پورا نہیں کیا گیا کیونکہ بعض ایسے ملازم ہیں کہ جن کو گواہیاں دینے یا مسلمانوں کی ہمدردی کے جرم میں دور یا خراب مقامات پر تبدیل کر دیا گیا ہے اور ابھی تک انہیں اپنے مقامات پر واپس نہیں لایا گیا- چوتھا مطالبہ تازہ فسادات میں مقتولوں کے وارثوں اور زخمیوں کو معاوضہ اور گذارہ دینے کا تھا- جہاں تک مجھے بتایا گیا ہے اس کو بھی اب تک عملاً پورا نہیں کیا گیا اور اکثر غرباء اب تک فاقوں مر رہے ہیں حالانکہ یہ کام جس قدر جلد ہوتا خود ریاست کے حق میں مفید ہوتا اور رعایا کے دلوں میں محبت پیدا کرنے کا موجب- مطالبہ نمبر۵ کے متعلق بھی مناسب کارروائی نہیں ہوئی اور اب تک بعض سیاسی قیدی جیسے میاں عبدالقدیر قید ہیں- اگر ہزہائی نس ایسے قیدیوں کو چھوڑ دیں تو یقیناً اچھی فضا پیدا ہو جائے گی- مطالبہ نمبر۶ کے متعلق کمیشن بیٹھ چکا ہے اور اس کے لئے ہم ریاست کے ممنون ہیں- مطالبات نمبر سات‘ آٹھ‘ نو درحقیقت ایسے مطالبات ہیں کہ جن کا مسلمانوں کے حقیقی مفاد سے تعلق ہے بلکہ سات اور نو کا ریاست کی تمام رعایا کو فائدہ پہنچتا ہے- ان میں سے نو کے سوا دوسرے دونوں مطالبات کو ابھی عملاً پورا نہیں کیا گیا حالانکہ ان کے فوری طور پر پورا ہونے میں کوئی مشکل نہ تھی- ریاست اور انگریزی علاقہ میں اس بارہ میں ایک سے حالات ہیں اور جو قانون انگریزی علاقہ میں ہے کوئی وجہ نہیں کہ ریاست میں فوراً جاری نہ ہو سکے- مطالبہ نمبر۷ کے متعلق سنا گیا ہے کہ مسٹر گلینسی رپورٹ کر چکے ہیں کہ پریس اور انجمنوں اور تقریر کی آزادی دی جائے- اگر یہ خبر صحیح ہے تو یہ امر اور بھی قابل افسوس ہے کہ اب تک اس کے متعلق فیصلہ نہ کر کے فضا کو خراب ہونے دیا گیا ہے-