انوارالعلوم (جلد 12) — Page 184
۱۸۴ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم تحریک آزادی کشمیر کے تعلق میں مکتوب نمبر۴ مکرمی راجہ سرہری کشن کول صاحب! آپ کا خط مورخہ ۳۱- دسمبر ۱۹۳۱ء ملا- جس کا شکریہ ادا کرتا ہوں- چونکہ مقدم چیز یہ ہے کہ ہزہائی نس مہاراجہ صاحب سے میری ملاقات کوئی مفید نتیجہ پیدا کرے اس لئے سردست میں ملاقات کی جگہ کے سوال کو نظر انداز کرتا ہوں اور اصل سوال کو لیتا ہوں جو مسلمانوں کے حقوق کے تصفیہ کے متعلق ہے- اگر ان امور کے متعلق ہزہائی نس مہاراجہ صاحب ہمدردانہ طور پر غور فرمانا چاہیں تو میں انشاء اللہ پوری کوشش کروں گا کہ مناسب سمجھوتہ ہو کر ریاست میں امن قائم ہو جائے- مسلمانان کشمیر کے مطالبات کے جواب میں جو اعلان ہزہائی نس مہاراجہ بہادر نے ۱۲- نومبر ۱۹۳۱ء کو فرمایا وہ بحیثیت مجموعی بہت قابل قدر تھا اور اسی لئے مسلمانان کشمیر اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے اس کے متعلق قدردانی اور شکریہ کا اظہار کیا- مگر جیسا کہ آپ کو معلوم ہے جو مطالبات ریاست کے سامنے نمائندگان نے پیش کئے تھے ان میں نو امور ایسے تھے جن کے متعلق ان کا مطالبہ تھا کہ ان کا مناسب فیصلہ فوراً کیا جائے- میں سمجھتا ہوں کہ ان کے متعلق فوری فیصلہ کرنے میں کوئی روک نہیں- اور وہ ہرگز کسی قسم کے کمیشن کے قیام کے محتاج نہیں ہیں- مگر میں افسوس کرتا ہوں کہ اب تک ان مطالبات کے متعلق کوئی کارروائی اس رنگ میں نہیں ہوئی کہ مسلمانوں کی تسلی کا موجب ہو- سب سے پہلا مطالبہ یہ تھا کہ جن حکام نے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو صدمہ پہنچایا ہے انہیں مناسب سزا دی جائے- دلال کمیشن حالانکہ مسلمان اس پر خوش نہیں تسلیم کرتا ہے کہ ایک انسپکٹر پولیس نے خطبہ سے امام کو روک کر فساد کی آگ بھڑکائی لیکن اس وقت تک اسے کوئی سزا نہیں دی گئی اور نہ اس شخص کو جس نے قرآن کریم کی ہتک کی تھی کوئی سزا دی گئی ہے- اس کا ریٹائر ہونا طبعی وقت پر ہوا ہے اور وہ کوئی سزا نہیں-