انوارالعلوم (جلد 12) — Page 140
۱۴۰ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کوئی بھی کام کر سکتی ہے- اگر پبلک کو یہ کہا جائے کہ یہ لوگ بددیانت ہیں‘ قوم کو فروخت کرنے والے ہیں‘ کمیٹی کے سربرآوردہ ممبر مستعفی ہو چکے ہیں‘ کمیٹی اصل میں ٹوٹ چکی ہے‘ اس کے اصل روح رواں ممبر سب کام احرار کے سپرد کر چکے ہیں‘ تو اس کے بعد کمیٹی کے لئے دائرہ عمل کونسا رہ جاتا ہے- پبلک کے ہی ذریعہ سے اس نے کام کرنا ہے- جب پبلک کو مندرجہ بالا امور کا یقین دلا دیا جائے تو سیکرٹری یا صدر کی طرف سے جو اعلان ہوگا‘ لوگ یہی سمجھیں گے کہ یہ فریب ہے‘ کمیٹی تو ٹوٹ چکی ہے‘ اب چندہ کیسا اور کام کیسا- آخر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے نمائندے پبلک کو جا کر کیا کہیں کیا یہ کہ صاحبان ہم ایک ٹوڈیوں کی جماعت ہیں جو ہر وقت قوم کو فروخت کرنے کے لئے تیار رہتی ہے- ہمارا صدر کبھی کسی اسلامی کام میں شریک نہیں ہوا- ہمارے اکثر ممبر مستعفی ہو چکے ہیں- کیونکہ وہ کمیٹی کے پروگرام پر خوش نہیں- ہم لوگ چندہ کشمیر کے لوگوں یا کشمیر کی آزادی کیلئے نہیں خرچ کریں گے بلکہ احمدیت کی تبلیغ پر‘ اب آپ لوگ بھی چندہ دیں- اور ہر جگہ کمیٹیاں بنا کر اور ہمارے پروگرام پر عمل کر کے ہماری تقویت کا موجب بنیں- لیکن باوجود اس کے کہ یہ سب امور بالکل غلط تھے اور باوجود اس کے کہ ان کی اشاعت نے کمیٹی کے کام میں سخت روک پیدا کر دی تھی محض اتحاد کو قائم رکھنے کے لئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے ایک ماہ تک بالکل خاموشی رکھی اور کوئی جواب نہیں دیا- لیکن جب باہر سے کثرت سے شکایات آنے لگیں اور بہت سی جگہوں پر کشمیر کمیٹیاں یا ٹوٹ گئیں یا معطل ہو گئیں تو ان امور کا جواب دینا پڑا اور اس جواب کو جو ایک ماہ کے متواتر حملوں کے بعد اور کام کے بند ہونے کے خطرہ کے بعد دیا گیا‘ اگر حملہ یا قابل اعتراض کہا جائے تو میں معزز انقلاب سے اختلاف کئے بغیر نہیں رہ سکتا- آئندہ کا سوال اب رہا آئندہ کا سوال- اس کے متعلق میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی تمام حملوں کے باوجود جو گزشتہ ایام میں اس پر کئے گئے ہیں‘ اختلاف کو پسند نہیں کرتی اور ان تمام کاموں میں احرار کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہے جو مشترک ہوں‘ بشرطیکہ یہ تعاون دو طرفہ ہو- ہاں جن امور میں دونوں کمیٹیوں کی پالیسی متضاد ہو وہ مجبور ہے کہ اپنے پسند کردہ طریق عمل کو اختیار کرے- اور اس صورت میں وہ اس امر پر بھی مجبور ہے کہ اپنی کمیٹیوں کو ہدایت کرے کہ اس حصہ میں وہ احرار کے ساتھ تعاون نہ کریں