انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 603 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 603

۶۰۳ ان پر رحم کرے کہ جب ان کے ماں باپ فوت ہو گئے تو وہ خراب ہو گئے کیونکہ ان کی تربیت نہ کی گئی تھی- غور کرو ادھر اگر ہم لوگوں کو اپنی جماعت میں داخل کرنے کی کوشش کرتے رہیں اور ادھر ہماری جماعت کے بچے تعلیم و تربیت نہ ہونے کی وجہ سے نکلتے رہیں تو فائدہ کیا ہوا- کیا جس مشک میں سوراخ ہو‘ اس میں پانی ٹھہر سکتا ہے- پس ایک تبلیغی جماعت کے لئے نہایت ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کا پورا پورا خیال رکھے ورنہ وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی- میں دوستوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ پوری کوشش کریں- یہ کوشش ماں باپ ہی کر سکتے ہیں اور ضروری ہے کہ سارے کے سارے لوگ اس میں لگے رہیں- اگر سارے مصروف نہ ہوں تو پھر کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا کیونکہ جب تک دوسرے بچوں کی اصلاح نہ ہو اپنے بچوں کی بھی کوئی اصلاح نہیں کر سکتا- پھر تعلیم کا مفہوم صرف لکھنا پڑھنا سمجھا جاتا ہے مگر صحابہ کے نزدیک یہ نہ تھا- حضرت عمرؓ سے جب پوچھا گیا کہ تعلیم کیا ہے تو آپ نے فرمایا- لکھنا‘ پڑھنا‘ حساب‘ تیرنا اور تیر چلانا‘ علم کے استعمال کرنے کے لئے طاقت اور ہمت نہایت ضروری چیز ہے-۱۲؎ میں نے بہت سے صحابہ کے حوالے دیکھے ہیں جو تیرنا اور تیر چلانا تعلیم میں شامل کرتے ہیں- ہمارے بچے فٹ بال اور کرکٹ وغیرہ تو کھیلتے ہیں مگر ان باتوں میں کوشش نہیں کرتے- فٹ بال وغیرہ اچھی کھیلیں ہیں مگر زندگی میں کام آنے والی نہیں اور تیرنا اور تیر چلانا ایسی باتیں ہیں جو ساری زندگی سے تعلق رکھتی ہیں ان کے ذریعہ طاقت آتی ہے‘ صحت حاصل ہوتی ہے اور ساتھ ہی یہ فن زندگی میں کام آتے ہیں- پس ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ بچوں کو لکھنے پڑھنے کے ساتھ تیرنا‘ غلیل چلانا وغیرہ بھی سکھائیں- زمانہ تو بندوق چلانے کا ہے مگر جب تک بندوق چلانے کے لئے نہ ملے اس وقت تک جو کچھ میسر ہو اسی سے کام لینا چاہئے- ہاں اپنے بچوں کو یہ ضرور بتا دینا کہ غلیل وغیرہ کسی انسان پر نہ چلائیں یہ بہت اہم بات ہے- رسول کریم ﷺ بہت احتیاط کیا کرتے تھے- چنانچہ فرمایا- جب کسی کو چھری پکڑانے لگو تو سرا اس کی طرف نہ کیا جائے بلکہ دستہ کیا جائے۱۳؎ بچوں کو جب اس قسم کی تعلیم دو تو ساتھ احتیاطیں بھی ضرور سکھاؤ کہ کسی کو ضرر نہ پہنچانا- تمدنی ضرورتوں میں سے ایک ضروری بات یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے تعاون کیا جائے- پہلے میں ذکر کر آیا ہوں کہ ایک دوسرے کی امداد کی جائے مگر جہاں میں یہ کہتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کی مدد کرو وہاں میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اس بات کا انتظار نہ کرو کہ میں کسی کی