انوارالعلوم (جلد 12) — Page 597
۵۹۷ میں نے کئی بار ذمہ وار انگریزوں کو بتایا ہے کہ جو طریق انہوں نے اختیار کیا ہوا ہے اس کے ذریعہ کامیابی نہ ہو گی- اس وقت انارکسٹوں کا مقابلہ صوبجاتی حکومتیں کرتی ہیں لیکن جب ایک صوبہ میں آرڈیننس جاری کیا جاتا ہے تو وہ دوسرے صوبہ میں چلے جاتے ہیں اور وہاں شرارت کا بیج بو دیتے ہیں- پھر اگر سارے ہندوستان میں ان کے خلاف کارروائی کی جائے تو بھی کامیابی نہ ہوگی کیونکہ جس کو مارنے کا منصوبہ کیا جائے وہ اگر مارنے والوں کو کہے کہ ایسا نہ کرو تو ان پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا- یہ کوشش غیر جانبدار لوگوں کی طرف سے ہونی چاہئے- دیکھو جسے قتل کیا جانے والا ہو وہ اگر قاتل سے کہے قتل نہ کرو تو اس کا کوئی اثر نہ ہو گا لیکن اگر غیر جانبدار کہے کہ یہ کام ٹھیک نہیں ایسی شرارت نہ کرو تو اس کا زیادہ اثر ہو سکتا ہے- اسی طرح ریاستوں میں بھی جب تک اس تحریک کی روک تھام نہ کی جائے یہ تحریک رک نہیں سکتی- کیا کرنا چاہئے میں نے جہاں یہ کہا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تحریک کے خلاف تمام صوبوں اور ریاستوں میں یکدم کام شروع کیا جائے اور یہ کام حکومت کی طرف سے نہیں بلکہ عام لوگوں کی طرف سے ہونا چاہئے وہاں میں یہ بھی کہتا ہوں کہ حکومت کی طرف سے اس کام کی ابتداء ہونی چاہئے- اس کی طرف سے اس کام کے لئے جب دعوت دی جائے گی تو ریاستیں بھی شامل ہو جائیں گی- اس طرح ایک مجلس کی جائے جس میں سب پارٹیوں کے نمائندے شریک ہوں حکومت کا صرف یہ کام ہو کر مختلف گروہوں کے نمائندوں کو ایک جگہ جمع کر دے- پھر وہ مجلس حکومت سے آزاد ہو کر کام کرے- لارڈ ارون سابق وائسرائے ہند کے سامنے میں نے یہ تجویز پیش کی تو انہوں نے کہا- تجویز بہت اچھی ہے مگر ابھی شورش ہے‘ ذرا امن ہو لے تو اس پر عمل کیا جائے گا- لارڈو ۹؎ ولنگڈن موجودہ وائسرائے ہند سے جب میں ملا اور یہ تجویز پیش کی تو انہوں نے کہا- میں سمجھ نہیں سکتا کہ لارڈارون نے کس طرح کہا کہ ابھی اس تجویز پر عمل کرنے کا وقت نہیں یہی تو اس پر عمل کرنے کا وقت ہے اور یہ بہت مفید تجویز ہے میں جلد مشورہ کر کے اس پر عمل کروں گا- مگر ابھی تک مشورہ نہیں ہو سکا حالانکہ اس تحریک کا مقابلہ کرنے کا یہی طریق ہے کہ ایک ایسی مجلس قائم کی جائے جس میں تمام قوموں کے نمائندے شریک کئے جائیں- کانگرس کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے پھر ہر علاقہ میں اس کی شاخیں قائم کی جائیں اور کام شروع کیا جائے-