انوارالعلوم (جلد 12) — Page 533
۵۳۳ قوانین کا نام جن سے بنی نوع انسان آرام سے رہ سکیں اور باہمی جھگڑے دور ہو جائیں تمدن ہے- اس کے متعلق پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس انتظام کو لوگ قبول کیوں کریں- کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ قانون فلاں نے اس لئے بنایا ہے کہ مجھے نقصان پہنچائے میں اسے نہیں مانتا- تمدن قائم کرنے والے کہتے ہیں ایسی مشکلات کو دور کرنے کیلئے بادشاہ چاہئے جس کے پاس فوج اور پولیس ہو تا کہ لوگوں کو سزا دے کر ٹھیک کر دے- مگر کہا جا سکتا ہے کہ اس کے معنی تو یہ ہوں گے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس جن کے پاس زیادہ زور ہوگا وہی حکومت کرے گا- اگر یہ اصول صحیح مان لیا جائے تو رعایا میں سے جس کا زور چلے گا وہ بھی چلائے گا اسے پھر ہم کس اصول کی بناء پر روک سکیں گے- اور یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب آج تک دنیا نہیں دے سکی- یہی وجہ ہے کہ بغاوت کو دور کرنے یا اسے ناجائز منوانے کیلئے دنیا کے پاس کوئی دلیل نہیں- جو دلیل دی جائے باغی وہی بادشاہ پر چسپاں کر دیتے ہیں- گویا جو تمدن کی بنیاد ہے اس کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ کیوں ایک دوسرے کی بات مانیں اور کیوں اپنا حق چھوڑ دیں- اس کا جواب دنیا معلوم نہیں کر سکی لیکن رسول کریم ﷺ نے اس سوال کا جواب دیا ہے- فرمایا دیکھو تمہارے تمدنی اختلافات کی بنیاد یہ ہے کہ ہم کیوں کر یہ مان لیں کہ جس کے ہاتھ میں فیصلہ کرنے کا کام ہے وہ منصف اور عادل ہے ممکن ہے وہ دشمن سے سختی اور دوست سے نرمی کا برتاؤ کرے پھر کس طرح تسلیم کر لیں کہ وہ صحیح فیصلہ کرے گا- آپ نے فرمایا یہ دلیل ٹھیک ہے- واقعہ میں لوگوں کے فوائد اس طرح ہیں‘ کوئی کسی کا رشتہ دار ہے‘ کسی کی کسی سے دوستی اور کسی سے دشمنی اور بعض سے منافرت اس لئے ان حالات کی موجودگی میں انسانوں کے قواعد قابل اعتماد نہیں ہو سکتے اور وہ یقیناً غلط ہیں- دراصل تمدن کی بنیاد الہام پر ہونی چاہئے اور تمدنی قوانین اس ذات کی طرف سے ہونے چاہئیں جس کی نہ کسی سے رشتہ داری ہے اور نہ کسی سے دشمنی- عورتوں سے پوچھو کہتی ہیں مردوں کے ہاتھ میں چونکہ قانون بنانا ہے اس لئے جس طرح چاہتے ہیں بنا لیتے ہیں- ہندوستانی کہتے ہیں ملکی قوانین انگریزوں نے اپنی قوم کو فائدہ پہنچانے کے لئے بنائے ہوئے ہیں اس لئے ہم سول نافرمانی کرتے ہیں- گاندھی جی کہتے ہیں ہم انگریزوں کا قانون نہیں مانتے وہ ہمارے مخالف ہیں- مگر خدا تعالیٰ کے قوانین کے متعلق کوئی یہ نہیں کہہ سکتا- خدا تعالیٰ کو اس سے غرض نہیں کہ لنکا شائر کا کپڑا فروخت ہو یا نہ ہو اور