انوارالعلوم (جلد 12) — Page 511
۵۱۱ الہٰی سلسلہ کے ابتدائی ایام کے کارکنوں کا مقام اس کے اندر ویسا ہی سر‘ ناک‘ آنکھیں وغیرہ ہوتی ہیں جیسی انسان کے جسم میں- لیکن ابتدائی حالت میں وہ نہایت بے حقیقت سی چیز ہوتی ہے حتی کہ صرف خوردبین کی مدد سے ہی دیکھی جا سکتی ہے- پھر وہ اس قابل ہوتی ہے کہ آنکھوں سے نظر آتی ہے لیکن نہایت ہی مضحکہ خیز شکل ہوتی ہے- پھر وہ آہستہ آہستہ کامل ہوتی ہے اور نہ صرف دنیا کی راہنما ہو جاتی ہے بلکہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہی دنیا کا مقصود ہے اور دنیا پیدا ہی اس کے لئے کی گئی ہے- اسی طرح اس وقت ہمارا نظام اگرچہ بہت قلیل اور محدود ہے لیکن ایک وقت آئے گا جب دنیا کی ترقی کا انحصار اس پر ہو گا اور روحانی ترقیات کی طرح مادی ترقیات بھی احمدیت کے قبضہ میں ہوں گی- جس طرح آج بنک آف انگلینڈ میں ذرا سی کمزوری پیدا ہونے سے حکومتیں بدل جاتی ہیں وزارتیں تبدیل ہو جاتی ہیں‘ ایکسچینج میں تغیر ہو جاتا ہے- ایک وقت آئے گا کہ اسی طرح بلکہ اس سے بہت زیادہ تغیرات ہوں گے جب سلسلہ احمدیہ کے بیت المال میں کسی قسم کا تغیر رونما ہو گا- بنک آف انگلینڈ کا اثر تو صرف ایک ملک پر ہے لیکن یہ دنیا کی ساری حکومتوں پر اثر انداز ہو گا اور اس وقت یہاں کے کارکنوں کا دینوی معیار بھی اس قدر بلند ہو گا کہ حکومتوں کی وزارتوں کی ان کے سامنے کچھ حقیقت نہیں- یہ چیزیں ایک ایسے مستقبل کو پیش کر رہی ہیں جسے مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنے احباب کی خدمات کی قیمت کا اندازہ کرنا چاہئے- دراصل ان کی خدمات کی قیمت وہ چند روپے نہیں جو بطور مشاہہ دیئے جاتے ہیں بلکہ جماعت کا آئندہ شاندار مستقبل ہے اور اس کا اندازہ خدا تعالیٰ ہی لگا سکتا ہے بندہ نہیں لگا سکتا اور جب یہ وقت آیا اس وقت ان کی خدمات کا اندازہ ہو سکے گا اور ان میں سے ہر ایک کام کرنے والا خواہ وہ چپڑاسی ہو یا ناظر الا ماشاء اللہ اس عظیم الشان عمارت کی تعمیر میں حصہ لے رہا ہے- بظاہر تو یہی نظر آتا ہے کہ انتہائی ترقی کے مدارج ہم میں سے کوئی نہیں دیکھ سکے گا لیکن ہمارا عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد بھی اس دنیا کے تغیرات جو مومن سے تعلق رکھتے ہیں وہ اسے بتائے جاتے ہیں- حتیٰ کہ حدیثوں میں آتا ہے جو کوئی اس کی قبر پر جاتا ہے اس کا بھی اسے علم ہو جاتا ہے اگرچہ اس کے کان آنے والے کے پاؤں کی آہٹ نہیں سنتے لیکن اللہ تعالیٰ اسے اس کا علم ضرور دے دیتا ہے- اس لئے جب وہ تغیرات پیدا ہوں گے تو اس میں حصہ لینے والوں کو اس کا علم ہو گا اور گو وہ اس دنیا میں نہیں ہوں گے مگر پھر بھی سلسلہ کی ترقیات کو معلوم