انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 469

۴۶۹ بھی ہوگی- لوگ منافقت سے اسلام میں داخل نہیں ہونگے- بلکہ دین کے شوق کی وجہ سے ہونگے- اور یہ فتح ہم نے اس لئے دی ہے کہ تربیت کا پہلو مضبوط ہو جائے- چنانچہ ایسا ہی ہوا- اور اللہ تعالیٰ نے حق کو واضح کر کے تربیت کے پہلو کو مضبوط کر دیا اور ایسے نائب آپﷺ کو بخشے جو ہمیشہ کیلئے دین کے محافظ ہو گئے- دیکھ لو- ایک تو وہ وقت تھا کہ ابوجہل کا بیٹا عکرمہ مکہ چھوڑ کر اس لئے بھاگ گیا کہ جہاں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہو وہاں میں نہیں رہ سکتا- مگر پھر وہ وقت آیا کہ وہ مسلمان ہوا اور ایسا مخلص مسلمان ہوا کہ ایک جنگ میں دشمن چن چن کر صحابیوں کو مار رہے تھے- عکرمہ نے کہا- یہ بات مجھ سے دیکھی نہیں جاتی کوئی ہے جو دشمن کے مقابلہ کیلئے میرے ساتھ چلے- اس طرح کچھ آدمی ساتھ لئے اور جرنیل سے اجازت لے کر دشمن پر جس کی تعداد ساٹھ ہزار تھی حملہ کر دیا اور عین قلب پر حملہ کیا- اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفار کو شکست ہوگئی- اور وہ بھاگ گئے- اس وقت عکرمہ کو دیکھا گیا تو وہ دم توڑ رہے تھے- ان کی پیاس محسوس کر کے جب پانی لایا گیا- تو انہوں نے کہا- پہلے میرے ساتھی کو پانی پلاؤ- اس ساتھی نے دوسرے کی طرف اشارہ کر دیا اور دوسرے نے تیسرے کی طرف وہ سات نوجوان تھے جو زخموں کی وجہ سے دم توڑ رہے تھے- مگر کسی نے پانی کو مونہہ بھی نہ لگایا- اور ہر ایک نے یہی کہا کہ پہلے فلاں کو پلاؤ مجھے بعد میں پلا دینا- جب سب نے انکار کر دیا تو وہ پھر عکرمہ کے پاس آیا- دیکھا تو وہ فوت ہو چکے تھے- اس کے بعد اس نے دوسروں کو دیکھا تو وہ بھی شہید ہو چکے تھے- غرض خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو صرف ظاہری فتح ہی عطا نہیں فرمائی بلکہ ظاہری فتح کے ساتھ قلوب کی فتح بھی عطا کی- رسول کریم ﷺ کا بلند ترین مقام پھر قرآن نہ صرف یہ کہ رسول کریم ﷺ کو بے گناہ قرار دیتا ہے بلکہ نہایت اعلیٰ درجہ کا انسان قرار دیتا ہے- فرماتا ہے- انک لعلی خلق عظیم کوئی یہ نہ کہے کہ ہمارا نبی گنہگار ہے- اگر دشمن ایسا کہتے ہیں تو وہ بکتے ہیں- ہم جانتے ہیں کہ تو بڑے اعلیٰ اخلاق والا ہے- پھر فرمایاالم نشرح لک صدرک ۹۷؎اے محمد رسول اللہ! کیا ہم نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا- پھر فرماتا ہے- لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة تمہارے لئے