انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 464

۴۶۴ وان کادوا لیفتنونک عن الذی اوحینا الیک لتفتری علینا غیرہ واذالاتخذوک خلیلا ۸۰؎فرمایا- قریب تھا کہ کہ لوگ تجھے عذاب میں مبتلا کر دیں- عام طور پر لوگوں نے غلطی سے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ رسول کو پھسلا لیں- مگر وہ رسول کریم ﷺ کو کہاں پھسلا سکتے تھے- اس کے تو یہ معنی ہیں کہ قریب ہے کہ یہ لوگ تجھے سخت عذاب دیں اس کلام کی وجہ سے جو تجھ پر وحی کیا گیا ہے تا کہ تو اس سے گھبرا کر کچھ تبدیلی کر لے- اور اگر ایسا ہو تو یہ ضرور تجھے دوست بنا لیں- لیکن ان کا خیال ایک جنون ہے ولو لا ان ثبتنک لقد کدت ترکن الیھم شیئا قلیلا- ۸۱؎اگر ہم نے قرآن نہ بھی نازل کیا ہوتا تو بھی تیری فطرت ایسی پاک ہے کہ یہ بات تو بڑی ہے- تیری ان سے مشابہت پھر بھی معمولی سی ہوتی- مگر اب تو تجھے وحیالہی نے ایک صحیح راستہ دکھا دیا ہے- اب ان کی یہ خواہش کس طرح پوری ہو سکتی ہے- اب سوال ہوتا ہے کہ پھر ووجدک ضالا فھدی کا کیا مطلب ہوا- سو اس کا جواب خود اسی سورۃ میں موجود ہے- اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی ایک زبردست دلیل دی گئی ہے- فرماتا ہے والضحی- والیل اذا سجی- ماودعک ربک وما قلی- ۸۲؎اے دنیا کے لوگو سنو! عین دوپہر کے وقت کو- اور رات کو جب وہ خوب ساکن ہو جاتی ہے اور اس کی تاریکی چاروں طرف پھیل جاتی ہے ہم اس بات کی شہادت میں پیش کرتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم( کو ہم نے کبھی نہیں چھوڑا- اور نہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم( سے ہم کبھی ناراض ہوئے ہیں- اب سوال یہ ہے کہ دوپہر اور آدھی رات اس بات کی کس طرح دلیل ہیں کہ محمد ﷺ سے خدا کبھی ناراض نہیں ہوا- اور نہ اس نے آپ کو چھوڑا- یہ ظاہر ہے کہ یہاں ظاہری دن رات مراد نہیں- بلکہ مجازی دن رات مراد ہیں- اور یہ محاوہ ہر زبان میں پایا جاتا ہے کہ رات اور دن سے خوشی اور رنج اور ہوش اور غفلت کا زمانہ مراد لیا جاتا ہے- رات تاریکی مصیبت اور جہالت کو کہتے ہیں- اور دن ترقی‘ روشنی اور علم کے زمانہ کو کہتے ہیں- پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تیری عمر کی ان گھڑیوں کو بھی پیش کرتے ہیں جو خوشی کی تھیں اور ان کو بھی پیش کرتے ہیں جو رنج کی تھیں اور تیرے ہوش کے زمانہ کو بھی اور بچپن کے زمانہ کو بھی جو جہالت کا زمانہ ہوتا ہے- پھر اس زمانہ کو بھی جو نبوت سے پہلے کا تھا- اور اسے بھی جب