انوارالعلوم (جلد 12) — Page 4
۴ سویز کے اوپر سے نلوں کے ذریعہ سے پانی گزارا اور اس علاقہ کو جو بڑے شہروں کے لئے ناقابل تھا‘ قابل سکونت بنا دیا- صلیبی جنگوں کے وقت جب فلسطین اور شام کے محاذ پر یورپ کی تمام اقوام کے منتخب بہادر اس نیت سے ڈیرے ڈالے پڑے تھے کہ اسلام کے بڑھنے والے سیلاب کو روک دیں ‘ اس وقت بھی دشت سینا مسلمانوں اور مسیحیوں سے رستہ دینے کا ٹیکس لیتا رہا تھا- نویں صدی کے آخر اور دسویں صدی کے ابتدائی حصہ میں نامعلوم کتنے اسلامی اور مسیحی لشکر پانی نہ ملنے اور کھانے کی کمی کے سبب اس دشت میں تباہ ہو گئے تھے- پانی کی کمی کے سبب گزرنے والے قافلوں کو لازماً ان چشموں یا تالابوں کے پاس سے گزرنا پڑتا تھا جو کہیں کہیں اس دشت میں پائے جاتے تھے اور اس وجہ سے جو فریق بھی غالب ہوتا تھا اسے دوسرے فر یق کے آدمیوں کو مارنے کا ایک آسان بہانہ مل جاتا تھا- کیونکہ تھوڑے آدمی ان چشموں یا تالابوں پر مقرر کر دینے سے اس بات کی کافی ضمانت ہو جاتی تھی کہ حریف کے آدمی نقصان اٹھائے بغیر مصر سے فلسطین کی طرف نہیں جا سکتے- چنانچہ اسامہ بن منقذ اپنی کتاب ‘’الاعتبار’‘ میں لکھتے ہیں کہ الجعفر نامی چشمہ جو مصر اور فلسطین کے درمیان تھا کبھی کسی وقت فرنگیوں سے خالی نہیں ہوتا تھا- ہمیشہ اس جگہ سے لوگوں کو بچ کر جانا پڑتا تھا- ایک دفعہ انہیں سیف الدین ابن سالار وزیر مصر نے شاہ نور دین کے پاس بھیجا کہ وہ طبریہ پر حملہ کریں تو ہم مصر سے غزہ پر حملہ کر کے فرنگیوں کو وہاں قلعے بنانے سے روک دیں- وہ کہتے ہیں کہ ہم الجعفر چشمہ پر پہنچے تو اتفاقاً فرنگی اس وقت موجود نہ تھے لیکن طے قبیلہ میں سے بنوابی خاندان کے کچھ لوگ وہاں تھے- جن کے جسم پر چمڑے کے سوا گوشت کا نام و نشان نہ تھا- آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں اور بالکل بدحال ہو رہے تھے- وہ کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا تم لوگ یہاں کس طرح گزارہ کرتے ہو- تو انہوں نے جواب دیا کہ مردار کی ہڈیاں ابال کر اس پر گزارہ کرتے ہیں اور کوئی چیز کھانے کی یہاں نہیں ہے- ان کے کتے بھی اسی پر گزارہ کرتے تھے- ہاں گھوڑے چشمہ کے ارد گرد کی گھاس پر گزارہ کرتے تھے- اسامہ لکھتے ہیں کہ میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ تم لوگ یہاں اس حالت میں کیوں پڑے ہو‘ دمشق کی طرف کیوں نہیں چلے گئے- تو انہوں نے جواب دیا کہ اس خیال سے کہ وہاں کی وباؤں سے ہمیں نقصان نہ پہنچے- اسامہ حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ کیسے بیوقوف لوگ تھے ان کی اس وقت کی حالت سے بڑھ کر وباء کیا نقصان پہنچا سکتی تھی-