انوارالعلوم (جلد 12) — Page 453
۴۵۳ شیطان کی حکومت تو انہی پر ہوتی ہے جو اس کے دوست ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں- محمد ﷺ تو ساری عمر شرک کا رد کرتے رہے- ان سے شیطان کا کیا تعلق ہو سکتا ہے- نواں اعتراض نواں اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ یہ شخص مفتری اور کذاب ہے- سورہ ص میں آتا ہے- دشمنوں نے کہا- ھذا ساحر کذاب اسی طرح سورہ نحل ۱۴ میں آتا ہے- قالوا انما انت مفتر ۵۲؎مخالف کہتے ہیں کہ تو مفتری ہے اللہ تعالیٰ اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ وماکان ھذا القران ان یفتری من دون اللہ ولکن تصدیق الذی بین یدیہ وتفصیل الکتب لاریب فیہ من رب العلمین- ام یقولون افترئہ قل فاتوا بسورة مثلہ وادعوا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صدقین- ۵۳؎فرمایا- یہ قرآن خدا کے سوا کسی اور سے بنایا ہی نہیں جا سکتا- اس کے اندر تو پہلی کتابوں کی پیشگوئیوں کی تصدیق ہے- پھر اس کے اندر الہامی کتابوں کی تفصیل ہے اور اس میں شک کی کوئی بات نہیں- یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے ہے- یہ لوگ کہتے ہیں کہ اپنے پاس سے بنا لی ہے- ان سے کہو کہ تم اس جیسی کوئی ایک ہی سورت لے آؤ- اکیلے نہیں سب کو اپنی مدد کے لئے بلا لو اگر تم واقع میں سچے ہو- قرآن کریم کے متعلق پانچ دعوے اس آیت میں پانچ دعوے قرآن کریم کے متعلق پیش کئے گئے ہیں- اول یہ کہ قرآن اپنی دلیل آپ ہے اور اسے خدا کے سوا کوئی بنا ہی نہیں سکتا- اس میں ایسے امور ہیں جو انسان کے اختیار سے باہر ہیں یعنی امور غیبیہ- فرماتا ہے- قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الااللہ ۵۴؎کہ آسمان اور زمین میں خدا کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا- مطلب یہ کہ قرآن میں غیب کی باتیں ہیں اور یہ خدا کے سوا کوئی نہیں بتا سکتا- دوسرا دعویٰ یہ کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ پہلی کتابوں کی پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں- تیسرا یہ کہ اس میں پہلی کتابوں کی تشریح ہے- چوتھا یہ کہ ہر امر کو دلیل کے ساتھ ایسے رنگ میں بیان کرتا ہے کہ اس کے درست ہونے میں کوئی شک نہیں رہ جاتا- پانچواں یہ کہ قرآن خدا کی صفت رب العلمین کے ماتحت نازل ہوا ہے تا کہ اس کا **********|| Individual Book PDF Page 41 Single PDF Page 423 of 562 Vol Printed Page 454 **********|| ۴۵۴ فیضان سب قوموں کیلئے وسیع ہو- فرماتا ہے- اگر قرآن افترا ہے تو ان پانچ صفات والی کوئی سورۃ پیش کرو- اگر ان صفات والی سورۃ لے آؤ گے تو ہم مان لیں گے کہ انسان ایسی کتاب بنا سکتا ہے- لیکن اگر تم سارے مل کر بھی نہ بنا سکو- تو معلوم ہوا کہ ایسی کتاب کوئی انسان نہیں بنا سکتا- اس سے معلوم ہوا کہ جس سورۃ (یونس) میں یہ دعویٰ کئے گئے ہیں اس سے پہلے جس قدر قرآن اتر چکا تھا- اس میں یہ پانچ باتیں پائی جاتی تھیں- اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا قرآن کے اس حصہ میں یہ پانچوں باتیں ہیں- اگر ہیں تو ثابت ہو جائے گا کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے- علم ِغیب پہلی بات یہ بیان فرمائی کہ قرآن میں وہ باتیں ہیں جو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا- یعنی قرآن میں علم غیب ہے- اس کے لئے جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو اس کی نہایت ابتدائی سورتوں میں سے ایک سورۃ کوثر ہے جو ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل ہے- خدا تعالیٰ فرماتا ہے انا اعطینک الکوثر- فصل لربک وانحر- ان شانئک ھوالابتر- رسول کریم ﷺ کے متعلق دشمن کہا کرتا کہ یہ ابتر ہے- اس کی کوئی نرینہ اولاد نہیں- اس کے بعد اس کا جانشین کون بنے گا- اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں فرماتا ہے کہ تو ابتر نہیں بلکہ تیرا دشمن ابتر ہے- رسول کریم ﷺ کس طرح ابتر نہیں- اور آپ کا دشمن کس طرح ابتر ہے- اس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے انا اعطینک الکوثر- اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے تیرے متعلق فیصلہ کر دیا ہے کہ ہم تجھے ایک عظیم الشان جماعت دیں گے- جو روحانی طور پر تیری فرزند ہوگی- اور اس میں بڑے بڑے اعلیٰ پایہ کے انسان ہوں گے- پھر فرماتا ہے- فصل لربک وانحر- اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو اس خوشی میں خوب نمازیں پڑھ‘ دعائیں کر اور قربانیاں کر- پھر جب ہم تیری جماعت کو اور بڑھانے لگیں تو تو اور عبادت کر اور قربانیاں کر- کیونکہ ہم تیری روحانی نسل کو بڑھانے والے ہیں- اور یہ روحانی نسل اس طرح بڑھے گی کہ ابوجہل کا بیٹا چھینیں گے اور تجھے دے دیں گے- وہ ابتر ہو جائے گا- اور تو اولاد والا ہوگا- یہی حال دوسروں کا ہوگا- ان کے بیٹے چھین چھین کر ہم تمہیں دے دیں گے- چنانچہ ایسا ہی ہوا- ان کے بیٹے رسول کریم ﷺ کو دیئے گئے- اور وہ روحانی لحاظ سے ابتر ہو گئے- یہی وجہ تھی کہ جوں جوں رسول کریم ﷺ کو کامیابی ہوتی گئی- کفار زیادہ تکلیفیں دیتے گئے- اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا جو سورۃ کوثر میں بیان کی گئی ہے-