انوارالعلوم (جلد 12) — Page 403
۴۰۳ ہو رہی ہیں اور آپ لوگ کھا رہے ہیں- اگر ہندو مجھ پر اعتماد کرتے تو اب بھی مذبح نہ بنتا آئندہ اگر ضرورت مجبور کرتی تو نہ معلوم کیا صورت ہوتی لیکن اس وقت میرا یہی ارادہ تھا کہ ان کے ساتھ رعایت کروں- اب جو کچھ کیا انہوں نے خود کیا اس لئے انہیں افسوس ہم پر نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنے آپ پر کرنا چاہئے- مسلمانانِ کشمیر کی امداد اب میں اس کام کا ذکر کرتا ہوں جو نہایت اہم کام ہے اور جسے بعض مخلص اصحاب کے مجبور کرنے اور انسانی ہمدردی کی وجہ سے میں نے شروع کیا اور وہ کشمیر کے متعلق کام ہے- ماہ مئی میں میں نے بعض مضامین ایسے پڑھے جن میں مسلمانان جموں پر سختی کرنے کا ذکر تھا- میں کشمیر میں کئی دفعہ جا چکا ہوں وہاں کے مسلمانوں کی دردناک حالت کا مجھے علم تھا جس کی وجہ سے میرے دل میں زخم تھا اور یہ خواہش دل میں رہتی تھی کہ خدا تعالیٰ توفیق دے تو ان کی مدد کی جائے- جب میں نے مسلمانانریاست پر سختی کے حالات پڑھے تو وہ جوش ابل پڑا اور میں نے مضامین لکھے- اور جب سرینگر میں مسلمانوں پر گولیاں چلیں تو میں نے مسلمان لیڈروں کو چٹھیاں لکھیں اور انہیں مشورہ کرنے کیلئے شملہ بلایا- جب مسلمان لیڈر شملہ میں جمع ہوئے تو معلوم ہوا کہ گورنمنٹ ریاستوں کے متعلق بیرونی لوگوں کی باتیں نہیں سنتی- اس پر کہا گیا اس بارے میں کچھ نہ کیا جائے اور بعض نے تو یہ بھی کہا کہ جلسہ بھی نہ کریں لیکن میں نے کہا جلسہ ضرور کرنا چاہئے- اگر ناکام رہے تو اس میں ہماری کوئی ذلت نہیں کیونکہ نیک کام کا ہم نے ارادہ کیا ہے- آخر جلسہ کیا گیا اور ایک کمیٹی بنائی گئی- مجھے کہا گیا کہ ہم آپ کو ڈکٹیٹر تجویز کرتے ہیں آپ جو کہیں گے وہ ہم کریں گے مگر میں نے کہا مجھے اور بہت کام ہیں اور میرے لئے یہ کام کرنا مشکل ہے- اس پر کہا گیا یہ بھی ثواب کا کام ہے تیس لاکھ مظلوم اور بے کس مسلمانوں کی خدمت ہے آپ ضرور یہ کام کریں- ہمارا اصول تھا کہ خلیفہ دوسری انجمنوں میں شامل نہ ہو مگر جب مجھ سے یہ کہا گیا تو میں اس کا کوئی جواب نہ دے سکا- پھر خیال آیا یہ کہیں گے کہ ناکامی کے ڈر سے پیچھے ہٹتا ہے- اس پر میں نے کہا دوسری انجمنوں میں خلیفہ کے شامل نہ ہونے کا دستور ہم نے خود ہی بنایا ہے اسے خدمت خلق کیلئے توڑ دیں تو کوئی حرج نہیں- چنانچہ میں نے ڈکٹیٹر بننے سے تو انکار کر دیا لیکن کہا پریذیڈنٹ بننا قبول کر لیتا ہوں- اس کے بعد شملہ میں کام کرنا شروع کیا‘ گورنمنٹ کو سمجھانے کی کوشش کی‘ میں نے وائسرائے سے ملاقات کی مگر انہوں نے کشمیر کے