انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 401 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 401

۴۰۱ ہے- میں سمجھتا ہوں رسول کریم ﷺ کی جتنی سیرتیں شائع ہو چکی ہیں ان میں سے یہ بہترین کتاب ہے- اردو سیرتوں سے ہی نہیں بلکہ بعض لحاظ سے عربی سیرتوں کے متعلق بھی کہہ سکتے ہیں کہ کوئی ایسی کتاب شائع نہیں ہوئی کیونکہ اس تصنیف میں ان علوم کا بھی پر تو ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ حاصل ہوئے اور چونکہ وہ پہلے نہیں تھے اس لئے پہلی کتابوں میں خامیاں رہ گئیں- رسول کریم ﷺ کے حالات کا جاننا ہر مسلمان پر فرض ہے اس لئے ہر دوست جو خرید سکے اسے نہ صرف یہ کتاب خریدنی چاہئے بلکہ پڑھنی چاہئے اور دوسروں تک پہنچانی چاہئے- اڑھائی روپے اس کی قیمت رکھی گئی ہے- چونکہ کسی زمانہ میں میں نے بھی طباعت کا کام کرایا ہے جب کہ اخبار الفضل جاری کیا تھا اس لئے باوجود آجکل کی گرانی کو مدنظر رکھتے ہوئے کہہ سکتا ہوں کہ اس کتاب کی قیمت دو روپے ہونی چاہئے-۳؎ معلوم نہیں آٹھ آنے زائد کس طرح لگائے گئے ہیں بہرحال جماعتوں کو یہ کتاب خریدنی چاہئے- چونکہ یہ بھی قائدہ ہے کہ اکٹھی کتابیں خریدنے پر کمیشن دیا جاتا ہے اس لئے اگر جماعتوں کے دوست مل کر دس‘ بیس‘ تیس‘ چالیس یا اس سے بھی زیادہ نسخے خریدیں تو کوئی وجہ نہیں قیمت میں رعایت نہ کی جائے- اس طرح ممکن ہے اور بھی رعایت ہو جائے لیکن اگر شائع کرنے والے ثابت کر دیں کہ لاگت کے لحاظ سے اڑھائی روپے ہی قیمت ہونی چاہئے تو بھی اکٹھی کتابیں خریدنے پر قیمت میں کمی آ جائے گی- پس جماعتوں کو چاہئے کہ اکٹھی کتابیں خریدیں- ہر شخص جسے توفیق ہو یہ کتاب لے اور اپنے بیوی بچوں کو پڑھائے یا سنائے تاکہ رسول کریم ﷺ کی پاکیزہ زندگی ان کے سامنے آئے- مردم شماری اور جماعت احمدیہ پنجاب اس سال مردم شماری کا اہم واقعہ ہوا ہے- سب لوگ چونکہ ہمارے مخالف ہیں اس لئے سب نے ہماری تعداد کو کاٹنے اور کم کرنے کی کوشش کی ہے اور باوجود اس کے کہ ہمارے نقطہ نگاہ سے ہماری تعداد حوصلہ شکن ہے مگر گورنمنٹ کے نقطہ نگاہ سے بہت عظیم الشان ہے- پنجاب میں چونکہ ہماری تعداد ۵۲ ہزار قرار دی گئے ہے اس لئے ہمارے نزدیک مایوس کن ہے مگر گورنمنٹ کے نزدیک اس طرح عظیم الشان ہے کہ ۱۹۲۱ء کی مردم شماری میں ہماری تعداد اٹھائیس ہزار قرار دی گئی تھی اور اب ۵۲ ہزار- گویا دس سال کے عرصہ میں ہم نے سو فیصدی ترقی کی ہے اور گورنمنٹ کے نقطہ نگاہ سے آج سے پانچویں مردم شماری تک