انوارالعلوم (جلد 12) — Page 379
۳۷۹ اورانہیں بتانا چاہئے کہ اب تو ہم دنیا کے لئے بلا بن گئے ہیں ہمارے اندر شامل ہونے سے اب ڈرکس بات کا ہے- اصل میں احمدیت کے لئے مسائل کی وجہ سے روک نہیں جتنی ڈرکی وجہ سے روک ہے مگر صداقت کے پھیلانے میں تمہارے لئے کوئی روک نہیں ہونی چاہئے- اپنے اندر اصلاح کی کوشش کرو اور دوسروں کی بھی اصلاح کی کوشش کرو- لم تقولون مالا تفعلون ۲؎ کے معنی یہ ہیں کہ غلط دعوے نہ کریں- اس کے یہ معنی ہیں کہ نیکی نہ کریں- مکمل صحت کے بہت کم لوگ ہوتے ہیں لیکن یہ نہیں کہ لوگ ایک دوسرے کوصحت کے قیام کے لئے کہتے نہ ہوں- دوران سلوک میں کمزوریاں تو ہوتی ہی ہیں- تو پھرکوئی وجہ نہیں کہ تبلیغ کو چھوڑ دیا جائے- ایسے عذرات محض وہم اور نفس کے دھوکے ہیں- بہرحال جماعت کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ ہم نے دگنا ہونا ہے- اگر ہم ارادہ کرکے کام شروع کر دیں تو دنیا احمدیت کے لئے تیار ہے‘ وگرنہ سستی ہماری طرف سے ہی ہوتی ہے اوراس کی وجہ سے ہی کام میں کمی ہوتی ہے- (الفضل ۲۷-دسمبر ۱۹۳۱ء) ۱؎ بخاری کتاب الصلوہ باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم جعلت لی الارض مسجدا و طھورا ۲؎ الصف : ۳