انوارالعلوم (جلد 12) — Page 346
۳۴۶ حُریّتِ انسانی کا قائم کرنے والا رسول ﷺ جس وقت وہ قسطیں مقرر ہو جائیں‘ اسی وقت سے وہ اپنے اعمال میں ویسا ہی آزاد ہو گا جیسا دوسرا آزاد شخص اور وہ اپنے مال کا مالک سمجھا جائے گا- پس ہر ایسا قیدی جو مذہبی جنگ میں گرفتار ہوتا ہے‘ اس کے لئے ممکن ہے کہ وہ آزادی حاصل کر لے- اور جب آزادی کا حصول اس کے اپنے اختیار میں ہے تو اس قسم کی قید‘ غلامی کی ناجائز شقوں میں کس طرح شامل کی جا سکتی ہے- قرآن کریم نے غلام کے لئے دو ہی صورتیں رکھی ہیں- اما منا بعد و اما فداء-۵؎ مذہبی جنگ میں جب کوئی شخص قید ہو تو یا اس کو بطور احسان چھوڑ دیں یا فدیہ لے کر چھوڑ دیں- پس یہ صورت اسلام میں جائز ہی نہیں کہ باوجود اس کے کہ کوئی شخص اپنا فدیہ پیش کرتا ہو پھر اس کو غلام رکھا جائے- ہاں یہ ایک صورت رہ جاتی ہے کہ نہ تو کوئی شخص فدیہ دے سکتا ہو اور نہ مالک بغیر فدیہ کے آزاد کرنے کی طاقت رکھتا ہو- کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ جو رقم اس نے جنگ میں خرچ کی تھی‘ اس نے اس کی مالی حالت کو خراب کر دیا ہو- ایسی صورت کے لئے قرآن کریم نے یہ اصول مقرر کیا ہے- کہ-: والذین یبتغون الکتب مما ملکت ایمانکم فکا تبوھم ان علمتم فیھم خیرا- واتوھم من مال اللہ الذی اتکم- ۶؎ یعنی وہ لوگ جو کہ تمہارے قیدیوں میں سے چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ قسطیں مقرر کر لی جائیں اور انہیں آزاد کر دیا جائے تو ان کے فدیہ کی رقم کی قسطیں مقرر کر لو- اگر تمہیں معلوم ہو کہ وہ روپیہ کمانے کی اہلیت رکھتے ہیں- بلکہ چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جوکچھ تمہیں دیا ہے‘ اس میں سے ان کی مدد کرو- یعنی انہیں کچھ سرمایہ بھی دے دو تا کہ اس کے ذریعہ سے روپیہ کما کر وہ اپنا فدیہ ادا کرنے کے قابل ہو جائیں- جو لوگ اس کی بھی قابلیت نہ رکھتے ہوں‘ ان کے لئے اسلام نے نصیحت فرمائی ہے کہ مالدار لوگ انہیں آزاد کرائیں- اور حکومت انہیں آزاد کرائے- لیکن جو لوگ کسی طرح بھی کمائی نہ کر سکتے ہوں اور آزاد ہو کر سوال کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہو‘ ان کے متعلق مالک کو یہی حکم ہے کہ وہ انہیں پاس رکھے اور ان کی خبر گیری کرے- اپنے کھانے میں سے اسے کھلائے اور اپنے کپڑے میں سے انہیں پہنائے- اسلام میں کوئی غلامی نہیں ہر شخص جو ان احکام کو پڑھے‘ معلوم کر سکتا ہے کہ غلامی کا جو مفہوم دنیا میں پایا جاتا ہے‘ اس کے رو سے اسلام میں