انوارالعلوم (جلد 12) — Page 339
۳۳۹ حُریّتِ انسانی کا قائم کرنے والا رسول ﷺ (۳) جبکہ انسان کو اس وقت مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی برائی اور بھلائی پہچان سکتا ہو- (۴) جبکہ آزادی کا حصول اس کے اختیار میں نہ ہو- (۵) جبکہ غلام اور آقا کے تعلقات کی بنیاد حسن سلوک پر نہ ہو- غلای کس طرح مٹ سکتی ہے اگر کوئی ایسا قانون ہو جو ان سب باتوں کا لحاظ کرے تو وہی قانون صحیح طور پر غلامی کو دنیا سے مٹا سکے گا- کیونکہ جب تک غلامی کی ضرورتوں کو جو بعض دفعہ ایک آزاد انسان کو بھی غلام بننے پر مجبور کر دیتی ہیں‘ دور نہ کیا جائے اس وقت تک غلامی کلی طور پر دنیا سے نہیں مٹ سکتی- اور جب تک ایسے لوگوں کو جو اپنے نفس کو قابو میں نہ رکھ سکیں اور دنیا کے تمدن کے تختے کو الٹنے کی کوشش میں ہوں ان کو خطرناک جرائم کی سزا میں بعض قیود اور حد بندیوں کے نیچے نہ لایا جائے‘ اس وقت تک نہ غلامی مٹ سکتی ہے نہ دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے- غلامی کو مٹانے کے لئے اصول رسول کریمﷺنے بیان کئے افسوس کہ ان امور کو مدنظر رکھے بغیر دنیا نے غلامی کو مٹانا چاہا ہے اور بغیر مغز کے ایک قشر تیار کر کے اس پر خوش ہو رہی ہے حالانکہ غلامی اب بھی موجود ہے اور موجود رہے گی- اس کی بعض صورتیں مٹائی نہیں جا سکتیں اور مٹائی نہیں جا سکیں گی کیونکہ وہ اچھی صورتیں ہیں‘ بری نہیں- اور بعض صورتیں ظاہراً مٹادی گئی ہیں‘ حقیقتاً موجود ہیں اور اس وقت تک موجود رہیں گی جب تک کہ سوسائٹی کے تمدن کی بنیاد ان اصول پر نہ رکھی جائے گی جن سے غلامی کی روح مٹ سکتی ہے اور وہ اصول صرف اور صرف اسلام نے بیان کئے ہیں- اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے ان کی بنیاد رکھی ہے- سرولیم میور کا اعتراض باوجود اس کے سرولیم میور جیسے ناواقف لوگ یہ کہتے ہیں کہ-: ‘’معمولی اہمیت والے معاملات کو نظر انداز کر کے اسلام سے تین بہت بڑے عیب پیدا ہوئے ہیں جو ہر ملک اور ہر زمانہ میں رائج رہے ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ قرآن پر مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہے- اول کثرت ازدواج‘ طلاق اور غلامی کے مسائل- یہ پبلک کے اخلاق کی جڑ پر تبر رکھتے ہیں اور اہلی زندگی کو زہر آلود بناتے ہیں- اور سوسائٹی کے نظام کو تہ دبالا کرتے ہیں’‘-۱؎