انوارالعلوم (جلد 12) — Page 329
۹ ۳۲۹ مدیر اخبار ‘’وفا العرب’‘ سے گفتگو سوال :اگر حالات اس درجہ تک پہنچے ہوئے ہیں تو پھر آپ اس کے دفعیہ کے لئے منظم مقابلہ کیوں نہیں فرماتے؟ جواب: ہم نے اپنی جماعت کی تنظیم اس بارے میں بھی مکمل کر لی ہے اور ہر فرد جماعت احمدیہ کو ہدایت ہے کہ وہ اپنی ضروریات مسلمانوں سے خریدا کرے اور وہ اس پر عمل پیرا ہیں- ایسا ہی کھانے پینے کے معاملہ کے متعلق بھی اصولی ہدایت ان کو یہ دی گئی ہے کہ ان کے ساتھ جو شخص جیسا برتاؤ کرے ویسا ہی وہ بھی کریں اور یہی عین انصاف ہے- اس وجہ سے ہندو خصوصاً احمدیوں کے خون کے پیاسے ہوئے ہیں لیکن ان کی اکثریت ہمارے لئے ہرگز درخوراعتنار نہیں- سوال : ہندوؤں کے مذہبی اعتقادات کیاہیں؟ جواب: ہندوؤں کے لاتعداد فرقے ہیں جن میں سے اکثر بت پرست ہیں- بعض گائے کو بھی قابل پرستش تصور کرتے ہیں- اور ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ہر جاندار چیز کا کھانا حراموممنوع خیال کرتا ہے- چنانچہ یہ لوگ سبزی وغیرہ پر ہی اکتفا کرتے ہیں ہندوبالاتفاق تناسخ پر اعتقادرکھتے ہیں- سوال : ہم آپ کے سلسلہ موقرہ کے متعلق اکثر سنا کرتے ہیں- لیکن متعدد امور کے متعلق ہمیں کچھ علم نہیں- کیا آپ مجھے ایسے حقائق سے مطلع فرمائیں گے جو میں اہل وطن کو ہدیہ پیش کرسکوں- جواب: ہماری جماعت شریعت حقہ قرآن اور احادیث نبویہ پر سختی سے عامل ہے اور ان سے سرمومنحرف نہیں- اور سچ تو یہ ہے کہ آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ ہی حضرت مسیح موعود کے ظہور پر دلائل قاطعہ ہیں- آپ ہمارے سامنے ظاہر ہوئے اور حقیقی دین اسلام کی اشاعت فرمائی الحمدللہ کہ اکثر بلادعربیہ وغربیہ میں سے عقل مند لوگ وعلماء ہمارے مبلغین کے ذریعہ اس سلسلہ حقہ میں داخل ہو چکے ہیں- اور ہمارا مقصد یہی ہے کہ اعدائے اسلام کے شر انگیز پروپیگنڈا کی مدافعت کریں- جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت پر تلے ہوئے ہیں اور تمام جہان کو دین واحد پر جمع کریں- ہمارا اور تمام ملت اسلامیہ کا فرض ہے کہ تمام مخالفین اسلام کا مقابلہ کریں- سوال: جماعت احمدیہ کی تعداد کتنی ہوگی-