انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 313

۳۱۳ دنیا میں ترقی کرنے کے گر دراصل یہی دو چیزیں ہیں جن سے انسان کو تقویٰ‘ ترقی اور کامیابی حاصل ہو سکتی ہے- اور دنیا میں ساری ترقیات انہی دو طریق سے حاصل ہوتی ہیں- یہ دعا نہیں کہ انسان ہاتھ اٹھائے اور کہہ دے یا اللہ مجھے فلاں ترقی عطا کر یا ساری عمر ہاتھ میں تسبیح لے کر بیٹھا اللہ اللہ کرتا رہے- بلکہ دعا سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جو ذرائع پیدا کئے ہیں ان کو استعمال کرے- مثلاً اولاد حاصل کرنے کے لئے اس نے یہ ذریعہ مقرر کیا ہے کہ انسان حسبپسند شادی کرے- اب اگر کوئی شخص شادی تو نہ کرے اور دعا کرتا رہے کہ خدایا مجھے اولاد عطا کر‘ تو یہ دعا قبول نہیں ہو سکتی کیونکہ دعا کے معنی ہی یہ ہیں کہ پہلے خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ ذرائع پر عمل کیا جائے اور پھر خدا تعالیٰ سے کامیابی کے لئے مدد مانگی جائے- دیکھو حکومت نے منی آرڈر فارم مقرر کر رکھے ہیں اور جو شخص ایک جگہ سے دوسری جگہ روپیہ پہنچانا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اس فارم کو پر کرکے دے- یہ ایک مدد ہے جو گورنمنٹ اپنی رعایا کو ایک جگہ سے دوسری جگہ روپیہ بھیجنے کے لئے دیتی ہے اس نے یہ طریق مقرر کر رکھا ہے- لیکن جو شخص اس طریق کو استعمال نہ کرے بلکہ خود ہی کوئی طریق ایجاد کر لے- مثلاً شعروں کی کسی کتاب میں نوٹ رکھ کر ڈاک خانہ میں دے آئے کہ اسے فلاں جگہ پہنچا دو- تو وہ گورنمنٹ کی امداد سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیونکہ حکومت سے روپیہ دوسری جگہ پہنچانے میں جو مدد حاصل کی جا سکتی ہے اس کا طریق یہی ہے کہ یا تو منی آرڈر کر دیا جائے اور یا بیمہ‘ یا مثلاً عدالت میں دیوانی دعویٰ کے لئے ایک شرح کورٹ فیس کی مقرر ہے- فرض کرو ایک مقدمہ میں ۲۵ روپیہ کورٹ فیس لگتی ہے لیکن کوئی شخص یہ تو نہ لگائے لیکن پچاس روپیہ کے نوٹ جلا کر کہے میں نے تو دوگنا خرچ کر دیا میرے مقدمہ کی سماعت ہونی چاہئے تو یہ درخواست ہرگز قبول نہ ہوگی کیونکہ اس نے وہ طریق اختیار نہیں کیا جو حکومت نے مقدمہ کی سماعت کا مقرر کر رکھا ہے- اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی ہر کام کے لئے علیحدہ علیحدہ ذرائع اور طریق رکھے ہیں- دعا کے الگ طریق ہیں‘ تربیت اولاد کے الگ اور تجارت و ملازمت کے لئے علیحدہ علیحدہ- دعا کے لئے جو طریق ہیں ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ جب بندہ خدا کو پکارتا ہے تو وہ سنتا ہے- یعنی جب کوئی بندہ ان ذرائع کو جو خدا تعالیٰ نے ترقی کیلئے مقرر کر رکھے ہیں استعمال میں لاتا ہے تو وہ اسے ترقی دیتا ہے- اس کی مثال یورپ کے لوگوں میں مل سکتی ہے- انہوں نے علوم سیکھے‘ تحقیقاتیں کیں‘ محنت کی‘ ایجادیں کیں اور خدا تعالیٰ نے ان کو دنیوی ترقیات