انوارالعلوم (جلد 12) — Page 311
۳۱۰ دنیا میں ترقی کرنے کے گر بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم دنیا میں ترقی کرنے کے گر (فرمودہ ۱۲ ستمبر ۱۹۳۱ء بمقام مسجد احمدیہ سیالکوٹ) تشہد و تعوّذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا-: ابھی ایک دوست نے قرآن کریم کا ایک رکوع تلاوت کیا ہے جس کی آخری آیت یہ ہے قل مایعبوا بکم ربی لولادعاو کم یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے- اے رسول ﷺ تو ان لوگوں کو میری طرف سے یہ پکار کر سنا دے کہ تمہارے رب کو تمہاری پرواہ کرنے کی کیا ضرورت ہے اگر تمہاری طرف سے دعا کا سلسلہ جاری نہ ہو- انسان اگر اپنی ہستی پر غور کرے تو آسانی سے معلوم کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں- عام طور پر بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہمارا نماز پڑھنا‘ صدقہ دینا‘ زکوۃ ادا کرنا‘ حج کرنا خدا تعالیٰ پر احسان ہے- چنانچہ دیکھا گیا ہے بعض نادان جب کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو کہتے ہیں معلوم نہیں خدا نے ہمیں کیوں مصبیت میں ڈالا ہم تو نمازیں پڑھتے اور دوسرے مذہبی احکام پر عمل کرتے ہیں- گویا وہ اپنے دل میں یہ محسوس کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان سے بدسلوکی کی ہے- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے- کسی شخص کا بیٹا مر گیا اور اس کا ایک دوست تعزیت کیلئے اس کے پاس گیا تو وہ چیخ مار کر رو پڑا اور اس سے کہنے لگا خدا نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے- گویا اس کے خیال میں اس کا کوئی حق خدا تعالیٰ نے مار لیا تھا- مگر سوچنا چاہئے وہ کونسا حق ہے جو بندہ نے خدا تعالیٰ پر قائم کیا ہے- مجھے ہمیشہ تعجب آتا ہے کہ وہ لوگ جو اپنی نماز‘ روزہ‘ زکٰوۃ‘ حج اور تقویٰ و طہارت پر فخر کیا کرتے ہیں وہ تو کسی تکلیف کے موقع پر چلا اٹھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہم پر ظلم کیا لیکن ہندوستان کا وہ شرابی شاعر جو دین سے بالکل غافل تھا ایک سچائی کی گھڑی میں باوجود شراب کا عادی ہونے کے خدا تعالیٰ کا الہام اس کے دل پر نازل