انوارالعلوم (جلد 12) — Page 302
۳۰۲ مومنوں کیلئے قربانی کا وقت ایک نہایت قلیل عرصہ میں ادا کرنی پڈیں- اور خدا تعالیٰ نے ان قربانیوں کے مطابق اپنے فضل بھی اعلیٰ درجہ کے اور غیر معمولی ایک نہایت قلیل عرصہ میں نازل کئے جن کو دیکھ کر دنیا ا ب تک انگشت بدنداں ہے- ایک بے کس یتیم زبردست بادشاہ بن گیا ایک یتیم بچہ جس کو گاؤں کی کوئی غریب دایہ بھی قبول کرنے کو تیار نہ تھی- جس کی ساری پونجی ایک اونٹ تھا اور وہ بھی اس کی بلوغت سے پہلے نہ معلوم کس طرح ادھر ادھر ہو گیا تھا- جس نے چالیس سال کی عمر تک گوشہ تنہائی میں گزارے تھے- جو نہ پڑھنا جانتا تھا نہ لکھنا اور جس نے جب اپنی ماموریت کا اعلان کیا تو سب سے زیادہ اس کے عزیز رشتہ دار ہی اس کے مخالف ہو گئے تھے- جس کے وطن کا ہر فرد اس کے خون کا پیاسا تھا- جو کچلا گیا‘ پیسا گیا اور دکھ دیا گیا- اور جس کے مٹانے کے لئے اپنے اور بیگانے سب جمع ہو گئے اور گویا بڑوں اور چھوٹوں نے متحدہ طور پر اسے مٹانے کا تہیہ کر لیا- جسے رات کی تاریکی میں اپنے وطن کو صرف ایک ساتھی کے ساتھ خیر باد کہہ کر ایک اجنبی بستی میں جہاں اس کے دوستوں کی تعداد سو سوا سو آدمی سے زائد نہ تھی جانا پڑا‘ ہاں وہی شخص صرف سات سال کے عرصہ میں ایک زبردست بادشاہ ہو گیا- جس نے نہ صرف عرب کے مختلف قبائل کو جمع کر دیا بلکہ عرب کے باہر بھی اس کی حکومت کا دامن وسیع ہو گیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ جو پہلے اس کے خون کے پیاسے تھے ان کے دلوں پر اسے ایسی حکومت عطا ہوئی کہ وہ اپنی جانیں اور اپنے مال سب ہی کچھ اس پر قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قربانی یہ تو وہ قربانی تھی جسے شدت کے ساتھ اور تھوڑے عرصہ میں ادا کرنا پڑا اور تھوڑے ہی وقت میں خدا تعالیٰ نے اس کا بدلہ بھی دے دیا- یہ قربانی بھی آنکھوں کو خیرہ کرنے والی تھی اور اس کا ثمر بھی آنکھوں کو چندھیا دینے والا تھا لیکن ابھی اسلام نے دوسری قربانی پیش کرنی تھی- ایک دکھے ہوئے دل کی قربانی‘ ایک خاموش زبان کی قربانی‘ اس آہ کی قربانی جو لبوں سے نکلنے سے پہلے ہی دبا دی جاتی ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو چنا ہوا تھا- ازل سے یہی مقدر تھا کہ آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے وہ قربانیاں دلوائے جو آہستگی سے لیکن ایک لمبے عرصہ تک دلوائی جاتی ہیں-