انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 290

۲۹۰ ہے- آپﷺ اربعین نمبر۲ میں اس قسم کی ایک دعا کا ذکر کر کے فرماتے ہیں-: ‘’یاد رہے کہ یہ طریقہ دعا مباہلہ میں داخل نہیں کیونکہ مباہلہ کے معنی لغت عرب کی رو سے اور نیز شرعی اصطلاح کی رو سے یہ ہیں کہ دو فریق مخالف ایک دوسرے کے لئے عذاب اور خدائی لعنت چاہیں لیکن اس دعا میں تمام اثر دعا صرف میری ہی جان تک محدود ہے- دوسرے فریق کے لئے کوئی دعا نہیں’‘-۱۶؎ خلاصہ یہ کہ جو مقابلہ مولوی عبدالحق صاحب سے ہوا‘ وہ شرعی اصطلاح کی رو سے مباہلہ نہ تھا اور محض مولوی صاحب کے اصرار پر اور لوگوں کو ٹھوکر سے بچانے کے لئے ایک دعا برنگ مباہلہ کی گئی‘ اسے مجازاً تو مباہلہ کہا جا سکتا ہے کہ دونوں فریق نے جمع ہو کر بددعا کی لیکن حقیقتاً نہیں- کیونکہ بد دعا دونوں فریق میں سے جھوٹے کیلئے نہ تھی- بلکہ صرف ایک فریق کے لئے تھی کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو تباہ ہو جائے- پس اس واقع سے مباہلہ کی شرائط کا اندازہ لگانا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس وقوعہ سے پہلی اور پچھلی تحریرات کو نظر انداز کر دینا کسی صورت میں جائر نہیں ہو سکتا- مباہلہ میں جماعت کی شمولیت اب سید صاحب کا یہ جواب رہ جاتا ہے کہ صحیح احادیث سے کسی جماعت کا مباہلہ میں شامل ہونا ثابت نہیں- سو اس کا جواب یہ ہے کہ جو روایات انہوں نے نقل کی ہیں ان سے یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ذفدنجران کو جن کی تعداد سات سے لے کر کئی درجن تک بیان کی جاتی ہے‘ مباہلہ کی دعوت دی- اب اگر جماعت کا مباہلہ میں شامل ہونا خلاف سنت ہے- تو پھر کیا رسول کریم ﷺ پر نعوذ باللہ من ذالک اعتراض نہیں آتا کہ آپﷺ نے ایک سے زیادہ لوگوں کو کیوں مباہلہ کے لئے بلایا- پس کم سے کم ان حوالوں سے سید صاحب کو یہ تو ماننا پڑے گا کہ گو جماعت کی شمولیت مباہلہ کے لئے ضروری نہیں لیکن جماعت کا شامل ہونا آیت اور احادیث کے مفہوم کے مخالف نہیں تو آپ کو جماعت کی شمولیت پر بلاوجہ اعتراض کیوں ہے- اس صورت میں آپ صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ گو جماعت شامل ہو سکتی ہے لیکن میری جماعت میرا ساتھ دینے کو تیار نہیں- یا یہ کہ میں ہزار پانچ سو آدمی ساتھ نہیں لا سکتا- میرے ساتھ آدمی کم ہیں- میں صرف پچاس ساٹھ آدمی اپنے ساتھ لاؤں گا اور اگر آپ اس قسم کے عذر رکھتے ہوں تو مجھے ہرگز اس شرط پر اصرار نہ ہو گا کہ آپ ضرور ہزار آدمی ہی ساتھ لائیں