انوارالعلوم (جلد 12) — Page 288
۲۸۸ اب رہا یہ سوال کہ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیوں مولوی عبدالحق صاحب سے بغیر مباحثہ کے مباہلہ کیا- تو اس کا جواب میں اگلے سوال کے ساتھ ملا کر اکٹھا دوں گا- مباہلہ میں جماعت کی شمولیت میری تیسری شرط کہ مباہلہ میں دونوں طرف سے جماعتیں ہونی چاہئیں- اس کے متعلق ایک تو سید صاحب یہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ ضروری ہے تو کیوں بانی سلسلہ احمدیہ نے مولوی عبدالحق صاحب سے اکیلے مباہلہ کیا اور دوسرے یہ کہ مباہلہ میں فریقین کے ساتھ جماعت کی شمولیت احادیث سے ثابت نہیں- پہلے امر کا جواب یہ ہے کہ مباہلہ میں دونوں طرف سے جماعت ہونے کے متعلق بھی بانیسلسلہ احمدیہ کا وہی عقیدہ تھا جو میں نے بیان کیا ہے- مولوی عبدالحق صاحب کو ہی مخاطب فرما کر آپ اپنے اشتہار مورخہ ۱۲-اپریل ۱۸۹۱ء میں فرماتے ہیں-: ‘’نیز آیات موصوفہ بالا سے یہ بھی ظاہر ہے کہ مسنون طریقہ مباہلہ کا یہی ہے کہ دونوں طرف سے جماعتیں حاضر ہوں- اگر جماعت سے کسی کو بے نیازی حاصل ہوتی تو اس کے اول مستحق ہمارے نبی ﷺ تھے- یہ کیا انصاف کی بات ہے جو ہمارے نبی ﷺ مباہلہ کیلئے جماعت کے محتاج ٹھیرائے جائیں اور میاں عبدالحق اکیلے کافی ہوں’‘-۱۱؎ پھر فرماتے ہیں-: ‘’اب ناظرین یہ یاد رکھیں کہ جب تک یہ تمام شرائط نہ پائے جائیں تو عندالشرع مباہلہ ہر گز درست نہیں’‘-۱۲؎ مولوی عبدالحق صاحب سے مسنون مباہلہ نہیں کیا گیا اب رہا یہ سوال کہ اس عقیدہ کے باوجود آپ نے مولوی عبدالحق صاحب سے اکیلے مباہلہ کیوں کیا؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے ایسا ہر گز نہیں کیا- چنانچہ آپ کے آخری اشتہار میں لکھا ہے-: ‘’اے برادران اہل اسلام! کل دہم ذیقعدہ روز شنبہ کو بمقام مندرجہ عنوان میاں عبدالحق غزنوی اور بعض دیگر علماء جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا ہے‘ اس عاجز