انوارالعلوم (جلد 12) — Page 281
۲۸۱ وجاوا لھا لامرا لنبی صلی اللہ علیہ وسلم المسلمین ان یخرجوا باھلیھم للمباھلہ ۵؎ یعنی اگر نجران کے عیسائی مباہلہ کے لئے آمادہ ہو جاتے تو آنحضرت ﷺ باقی مسلمانوں کو بھی حکم فرماتے کہ وہ اپنے اپنے اہل و عیال سمیت آپ کے ساتھ مباہلہ میں شامل ہوں- پس مسنون مباہلہ یہی ہے کہ جماعت کے ساتھ مباہلہ کرے- تیسری بات سید صاحب موصوف نے یہ تحریر فرمائی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر نصاریٰ میرے مقابل پر آ جاتے تو ان پر آگ برستی-۶؎ اگر سید صاحب کی مراد یہ ہے کہ اگر فریقین میں سے کسی پر آگ نہ برسے تو مباہلہ کو باطل سمجھا جائے گا؟ تو میں اس سے متفق نہیں- میں کسی عیسائی یا ہندو کو ان سے مباہلہ کرنے کے لئے تیار کر دیتا ہوں- اگر اس پر آسمان سے آگ برسے یا وہ سور یا بندر ہو جائے جیسا کہ بعض دوسری احادیث میں آتا ہے تو پھر ان کا حق ہو گا کہ وہ مباہلہ کے اثر کو ان باتوں تک محدود رکھیں ورنہ خدا تعالیٰ نے صرف لعنت کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور یہی لفظ میاں بیوی کے ملاعنہ کے لئے بھی استعمال ہوا ہے- لیکن ان میں سے کسی ایک مقام پر بھی خدا تعالیٰ کی سنت کو کسی خاص عذاب میں محدود اور محصور نہیں کیا گیا- پھر اس جگہ کیوں ایسا کیا جائے؟ میاں بیوی میں ملاعنہ امت محمدیہ میں سینکڑوں دفعہ ہو چکا ہے اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی ہوا ہے- مگر نہ کبھی آگ برسی اور نہ کبھی کوئی بندر یا سور بنا- جب اللہ تعالیٰ ایک عام لفظ استعمال کرتا ہے تو کسی بندہ کا کیا حق ہے کہ وہ اس کے معنی کو محدود کر دے- چوتھی بات سید صاحب موصوف نے یہ تحریر فرمائی ہے کہ ان کی طرف سے مولوی عبداللہ صاحب روپڑوی اور مولوی اسد اللہ یوسف صاحب دینانگری مبادیات کے طے کرنے کے لئے مقرر ہونگے- میں سمجھتا ہوں کہ اتمام حجت اور مباہلہ میں ایک جماعت کا شامل ہونا قرآن کریم سے یقینی طور پر ثابت ہے اور احادیث اس کی موید ہیں اور ایک حدیث بھی اس کے مخالف نہیں- پس ان دونوں شرطوں کا پہلے طے ہو جانا ضروری ہے اگر وہ ان دونوں شرطوں کو تسلیم کر لیں تو میرے نائب امیر جماعت احمدیہ امرت سر کے مکان پر ان کی تحریر کے بموجب آ جائیں گے اور جیسا کہ سید صاحب موصوف نے تحریر فرمایا ہے ان کی گفتگو تحریر میں آتی رہے گی تا کہ بعد میں اختلاف پیدا نہ ہو- سید صاحب موصوف نے آخر میں اپیل کی ہے کہ غیر ضروری باتوں میں وقت ضائع نہ