انوارالعلوم (جلد 12) — Page 253
۲۵۳ زمینداروں کی اقتصادی مشکلات کا حل خریدنا کم کر دیا اور اس طرح گاہکوں میں کمی آ گئی اور غلے اور کپاس کو نقصان پہنچا- کھانے والے اب بھی وہی موجود ہیں- دنیا کی آبادی کم نہیں ہو گئی- فرق یہ پڑا ہے کہ وہ انگلستان جو پہلے ہندوستان سے زیادہ مال خریدتا تھا اب وہ آسٹریلیا‘ کینیڈا اور دوسری امریکن حکومتوں سے مال خریدتا ہے کیونکہ وہ ملک باہمی سمجھوتے کے ماتحت انگلستان سے مال خریدتے ہیں اور جبکہ انگلستان کی ضرورتیں ان ملکوں سے پوری ہو جاتی ہیں تو اسے ہندوستان سے پہلے کے برابر اجناس خریدنے کی ضرورت نہیں رہتی- اجناس کی زیادتی کی وجہ سے نقصان دوسرا نقصان ہندوستان کی اقتصادی حالت کو اجناس کی زیادتی کی وجہ سے ہوااس کے دو اسباب ہیں- اول یہ کہ جب جنگ عظیم کے دوران میں بہت سی اقوام نے یہ محسوس کیا کہ اگر کسی وقت کوئی زبردست بحری بیڑا ان کے تعلقات کو دوسرے ممالک سے قطع کر دے تو وہ نہایت سخت مشکلات میں پڑھ جائیں گے اور ان کے ملک کے لئے کافی غلہ مہیا نہیں ہو سکے گا- اس احساس کے اثر کے نیچے وہ ممالک جو صرف صنعت و حرفت کی طرف توجہ کرتے تھے اور غلہ پیدا کرنے کی طرف ان کی بہت کم توجہ تھی‘ انہوں نے بھی اپنے ملک میں زراعت پر زور دینا شروع کیا تاکہ اگر آئندہ کسی جنگ میں ان کا محاصرہ بھی کر لیا جائے تو بھی انہیں کھانے پینے کی کوئی تکلیف نہ ہو- نتیجہ یہ ہوا کہ ایسے ممالک جس قدر غلہ پہلے دوسرے ممالک سے منگواتے تھے اس قدر غلہ منگوانے کی انہیں حاجت نہ رہی- روس میں غلّہ کی افراط دوسرا سبب اجناس کی زیادتی کا یہ پیدا ہو گیا ہے کہ روس کے ملک میں ایک ایسی حکومت قائم ہے جس نے سب زمینداروں کی زمینیں لے کر سرکاری ملکیت قرار دے دی ہیں- ہر زمیندار کے پاس اتنی ہی زمین رکھی جاتی ہے جتنی وہ خود کاشت کر سکتا ہے اور کسی زمیندار کو یہ اختیار نہیں ہوتا کہ اپنی مرضی کے مطابق جو چاہے بوئے بلکہ گورنمنٹ بتاتی ہے کہ زمیندار کیا بوئیں اور کیا نہ بوئیں- گورنمنٹ نے مختلف تجربوں کے بعد یہ معلوم کیا ہے کہ کس علاقے میں کون سی چیز اچھی ہو سکتی ہے- اس علم کے ماتحت وہ زمینداروں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ صرف وہی چیز بوئیں جو گورنمنٹ کے نزدیک اس علاقے کیلئے مناسب ہے جب غلہ پیدا ہو جاتا ہے تو زمینداروں کو اس کے کھانے کے مطابق غلہ ملتا ہے- باقی ضرورتوں کے لئے گورنمنٹ خود انتظام کرتی ہے- یعنی کپڑے جوتی