انوارالعلوم (جلد 12) — Page 210
۲۱۰ دوسرے لوگ جو اس وقت مایوسی پیدا کر رہے ہیں‘ وہ لوگ ہیں جو اس امر سے ڈرتے ہیں کہ کہیں دوسری مسلمان ریاستوں میں شورش نہ پیدا کی جائے- یہ لوگ بھی سخت غلطی پر ہیں- اول تو کشمیر اور مسلمان ریاستوں کے حالات یکساں نہیں دوسرے یہ بھی غلط ہے کہ ہندو مسلمانوں کے کشمیر کے معاملات میں دلچسپی لینے کی وجہ سے مسلمان ریاستوں کے خلاف شورش کریں گے وہ پہلے سے یہ کام کر رہے ہیں- مسلمان کشمیر کے متعلق دلچسپی لیں یا نہ لیں انہوں نے مسلم ریاستوں میں بغیر وجہ کے بھی ضرور شورش پیدا کرنی ہے- پس ہمیں ان لوگوں کی باتوں میں نہیں آنا چاہئے اور استقلال سے کشمیر کی آزادی کے لئے کوشش کرتے رہنا چاہئے اور ایک سبب پر توکل نہیں کرنا چاہئے‘ ہر جائز وسیلہ جس سے کام کے ہونے کی امید ہو ہمیں اختیار کرنا چاہئے اور اگر کسی کوشش کا نتیجہ حسب دلخواہ نہ نکلے تو ناامید نہیں ہونا چاہئے- اس وقت سب سے بڑا آلہ آزادی کا سول نافرمانی سمجھا جاتا ہے- پھر کیا یہ آلہ گزشتہ آٹھ سال میں کامیاب ہو گیا؟ اگر وہ آٹھ سال میں کامیاب نہیں ہوا تو ہم نو ماہ میں اپنی کوششوں سے کیوں مایوس ہوں- یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ نے خود ہی ہمارے لئے ایک راستہ مقرر کر چھوڑا ہے- اور ہمیں درمیانی روکوں کی وجہ سے اس سے ادھر ادھر نہیں ہونا چاہئے- اور وہ توکل اور تبلیغ ہے- خدا تعالیٰ کے فضل پر یقین رکھنا اور انسانی فطرت پر یقین رکھنا کہ وہ زیادہ دیر تک دلیل کا مقابلہ نہیں کر سکتی یہی اصل کامیابیوں کی جڑ ہے اور یہی کمزوروں کا حربہ ہے جس سے وہ بغیر فوجوں کے جیت جاتے ہیں- رسول کریم ﷺ کو دیکھ لو- آپ باوجود انتہائی کوشش کر چکنے کے اپنے مخالفوں سے ناامید نہیں ہوئے کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر بھی یقین تھا اور آپ اس امر پر بھی یقین رکھتے تھے کہ انسانی فطرت زیادہ دیر تک معقولیت سے آنکھیں بن نہیں کر سکتی- آخر ایک دن وہی لوگ جو آپ کے دشمن تھے آپ کے تابع فرمان ہو گئے- پس ہمارے آقا کا اسوہ ہمارے سامنے موجود ہے- ہمیں کسی اور کی نقل کی ضرورت نہیں ہمارا فرض ہے کہ ایک طرف ہر مسلمان کے دل میں خواہ وہ کشمیر کا ہو یا باہر کا کشمیر کے مسئلہ سے دلچسپی پیدا کریں اور دوسری طرف ریاست کے حکام کو بھی اور انگریزوں کو بھی اپنے دعاوی کی معقولیت کا قائل کریں- اور یہ نہ شبہ کریں کہ یہ لوگ ہماری بات نہیں مانیں گے- کیونکہ جب ہم اپنی طاقت پر خود شک کرنے لگ جائیں تو ہماری بات کا دوسروں پر بھی اثر نہیں ہوتا- ہمیں چاہئے کہ یقین