انوارالعلوم (جلد 12) — Page 187
۱۸۷ اگر ریاست ایک سال کے لئے عارضی طور پر جب تک کہ گلینسی کی رپورٹ پیش ہو کر اس پر غور کیا جا سکے‘ ریاست کے زمینداروں کا بار تمام ٹیکسوں کو مدنظر رکھتے ہوئے انگریزی علاقہ کے بار کے مطابق کم کر دے تو نہ صرف یہ ایک انصاف کا کام ہو گا بلکہ اس سے رعایا اور راعی کے تعلقات کے درست ہونے میں یقیناً بہت کچھ مدد ملے گی- دوسرا تغیر جو بعد کے حالات سے پیدا ہوا ہے وہ جموں اور میرپور کے سیاسی قیدیوں کا سوال ہے- جب گاندھی ارون پیکٹ ہوا تھا تو تمام سیاسی قیدی حکومت برطانیہ نے بغیر کوئی معاہدہ لینے کے چھوڑ دیئے تھے- ریاست نے رعایا سے صلح تو کی لیکن قیدیوں کو نہیں چھوڑا- اس کی وجہ سے ان قیدیوں کے دوستوں اور ساتھیوں کا دباؤ لیڈروں پر پڑ رہا ہے اور تعاون کی کارروائی پوری طرح نہیں ہو سکتی- میرے نزدیک یقیناً ریاست کا اس میں فائدہ ہے کہ وہ ان قیدیوں کو چھوڑ دے- اگر وہ لوگ نئی فضا سے فائدہ نہ اٹھائیں تو انہیں پھر گرفتار کیا جا سکتا ہے اور اس وقت یقیناً رعایا کا سمجھدار طبقہ ریاست کے ساتھ ہو گا- ایک نیا تغیر گلینسی کمیشن کے قیام کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان اس کی موجودہ ترکیب سے مطمئن نہیں لیکن جو کچھ پہلے ہو چکا وہ تو خیر ہو چکا آئندہ ایک نئی کمیشن قانوناساسی کے متعلق مقرر کی جائے گی- اس کی ترکیب سے پہلے مسلمانوں کے احساسات کو معلوم کر کے ان کا خیال رکھ لینا ضروری امر ہے- دلال کمیشن کے مسلمان مخالف تھے لیکن دلال کمیشن کی رپورٹ کا جو حصہ مفید تھا اب تک اس پر بھی عمل نہیں ہوا- یعنی (۱) مسلمانوں کی ملازمتوں کے متعلق کوئی معین احکام جاری نہیں ہوئے- (۲) اس قسم کے غیر تعلیم یافتہ افسروں کو جن کے بے فائدہ ہونے کے متعلق کمیشن نے رائے ظاہر کی تھی اب تک ہٹایا نہیں گیا- یہ جملہ امور ایسے ہیں کہ جن پر گفتگو ہو کر کسی مفید نتیجہ کی امید ہو سکتی ہے اور اگر ہزہائی نس ان کے متعلق تبادلہ خیال کا مجھے موقع دیں تو میں ہزہائی نس کی ملاقات کو ایک مبارک بات سمجھوں گا جس سے لاکھوں آدمیوں کے فائدہ کی امید ہو گی- اور اگر کوئی مفید صورت نکلے تو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سامنے اس ملاقا کا نتیجہ رکھ کر کوشش کروں گا کہ کوئی ایسی صورت نکلے جس سے جلد سے جلد امن قائم ہو سکے- لیکن اگر ہزہائی نس کسی مصلحت کی وجہ سے ان امور پر غور کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو محض ایک رسمی ملاقات باوجود اس ادب و احترام کے