انوارالعلوم (جلد 12) — Page 127
۱۲۷ نمائش ہو جائے گی جس سے فائدہ اٹھانا ہماری شان کے خلاف ہے چنانچہ انہوں نے بھی مجھ سے اتفاق کیا- احرار کا ایک ہی کام بیان کیا جاتا ہے یعنی جتھوں کا بھیجنا- لیکن یہ تحریک بھی آلانڈیاکشمیر کمیٹی نے ہی شروع کی ہے اور سب سے پہلے جتھوں کے متعلق ہمارے اعلانوں میں ہی ذکر آیا ہے لیکن بعد میں جب میں نے اس پر اچھی طرح غور کیا تو میں اسی نتیجہ پر پہنچا کہ یہ تجویز ریاستی مسلمانوں کے لئے نقصان رساں ہے- خود کشمیر کے بعض سرکردہ لوگوں کے جن کے نام ظاہر کرنا مناسب نہ ہوگا‘ خطوط ہمارے پاس موجود ہیں جن میں وہ لکھتے ہیں کہ یہ تحریک ہمارے لئے مضر ہے ہمیں تو صرف یہ ضرورت ہے کہ یہاں کے بیکس لوگوں کے لئے روپیہ بھیجا جائے جو اس مصیبت کے ایام میں فاقوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں- حقیقت یہ ہے کہ قید ہونے کے لئے تو کشمیر کے بہت آدمی تیار ہیں- آخر اپنے گھر کا جو دکھ انہیں ہو سکتا ہے باہر والوں کو تو نہیں ہو سکتا- جو مشکل ان کے راستہ میں ہے یہ ہے کہ جب اس قسم کی تحریک شروع ہو تو ہزاروں غریب پس جاتے ہیں ان کی کچھ نہ کچھ امداد حوصلہ افزائی کے لئے ضروری ہوتی ہے- پس جس طرح یورپ کے لوگ آرمینیا وغیرہ کے لوگوں کی روپیہ سے امداد کرتے تھے اور انہیں کوئی اعتراض نہ ہو سکتا تھا اسی طرح برطانوی ہند کے لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ریاست کے مظلومین کی مالی امداد کریں- جتھوں کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ انہیں اول تو انگریزی حکومت ہی روکے گی- چنانچہ یہاں کے لوگوں کو معلوم ہے کہ احرار کے جتھوں کے ساتھ انگریزی افسر سیالکوٹ سے جموں گئے تھے تا اگر حکومت جموں اجازت نہ دے تو وہ ان لوگوں کو واپس لے آئیں- انٹرنیشنللاء کے مطابق ہر حکومت اس بات کی ذمہ دار ہے کہ اگر اس کی رعایا میں سے کوئی لوگ دوسری سرحد پر جا کر شورش پیدا کرنا چاہیں تو وہ انہیں روکے- اس لئے پنجاب سے بمبئی‘ کلکتہ‘ مدراس بلکہ برہما میں بھی جتھ جا سکتا ہے لیکن انگریزی رعایا کا کوئی جتھا کشمیر میں نہیں جا سکتا- پس جتھے بھیجنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ حکومت انگریزی انہیں روکے گی اور طبائع میں جوش ہونے کی وجہ سے لڑائی کا رخ انگریزوں کی طرف ہو جائے گا- وہاں ڈوگرہ حکومت ریاست کے مسلمانوں کو کچلتی رہے گی اور یہاں انگریزوں سے مسلمان پٹ رہے ہونگے- پس جتھے بھیجنا ریاست کے مسلمانوں سے دشمنی کے مترادف ہے‘ خیر خواہی ہر گز نہیں- جو اشخاص یہ جانتے