انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 58

۵۸ اصل کو تسلیم کر لیا جائے تو کبھی کوئی حکومت اپنے ملک سے باہر جا کر استبدادی حکومت نہیں کر سکتی- کیونکہ اس پر اپنے ملک کا بار ہی اس قدر ہوگا کہ وہ دوسرے ملک کے بوجھ کو برداشت ہی نہیں کر سکے گی سوائے اس کے کہ دوسرے ملک سے اس کے تعلقات کے بنیاد تعاون اور دوستی پر ہو- ۲۰- سلسلہ احمدیہ کا ایک یہ بھی عقیدہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ خدا تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کیلئے بحیثیت مجموعی پیدا کیا ہے اور جس طرح کوئی شخص کسی کی زمین میں ہل چلا کر بوجہ ہل چلانے کے اس کی پیداوار کا واحد مالک نہیں ہو سکتا اسی طرح قدرت کے پیدا کردہ سامانوں سے کام لیکر کوئی شخص اس کے ثمرات کا واحد مالک نہیں ہو سکتا- اور چونکہ جس قدر دولت کمائی جاتی ہے خواہ زراعت سے ہو‘ خواہ تجارت سے‘ خواہ صنعت و حرت سے اس کے کمانے میں اس ذخیرہ کو کام میں لایا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنینوع انسان کی مجموعی بہتری کیلئے دنیا میں پیدا کیا ہے اس لئے شریعت نے ہر سرمایہدار پر اس رقم کو چھوڑ کر جو وہ خرچ کر لیتا ہے ایک رائلٹی مقرر کی ہے اور حکومت کا فرض مقرر کیا ہے کہ اس رقم کو لے کر دوسرے مستحقوں پر خرچ کرے- اس اصل کے ذریعہ سے ایک طرف تو اسلام نے مختلف کاموں کے ساتھ افراد کی دلچسپی کو بھی قائم رکھا ہے اور دوسری طرف قوم کے متفقہ حقوق کو بھی قائم رکھا ہے اور یہی ذریعہ فردی ترقی اور قومی ترقی کے توازن کو قائم رکھنے کا ہے- ۲۱- سلسلہ احمدیہ کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ تمام ایسے سمجھوتے یا کام یا احکام جو بنی نوع انسان کے کسی فرد کی جائز ترقی کے راستہ میں روک ہوں درست نہیں- اسی وجہ سے شریعت اسلام نے باپ کی جائیداد کو اولاد اور دوسرے رشتہ داروں میں تقسیم کرنے پر زور دیا ہے تا کہ چند خاندانوں کے ہاتھ میں زمین نہ رہے اور کوئی خاندان اسی وقت تک زمین کا مالک رہے جب تک کہ وہ اپنی ذاتی لیاقت کے ساتھ اس کا مالک رہ سکتا ہے- اسی طرح سود کو روک دیا ہے تا چند ذہین لوگ مل کر تجارت اور صنعت و حرفت کو اپنے ہاتھ میں نہ کر لیں اور ہر اک شخص جسے خدا تعالیٰ نے خاص علم اور فہم دیا ہے مجبور ہو کر دوسروں کا روپیہ شامل کر کے انہیں بھی حصہ دار بنائے اور دولت صرف چند ہاتھوں میں جمع نہ ہو جائے- اسی طرح زکوۃ مقرر کر کے ایسے لوگوں کیلئے ترقی کا راستہ کھولا ہے جن کے پاس علم اور قابلیت تو ہے لیکن روپیہ نہیں-