انوارالعلوم (جلد 12) — Page 48
۴۸ یورایکسیلنسی! بعض تعلیمات سلسلہ احمدیہ کی آپ کو ایسی نظر آئیں گی جو بظاہر مسلمانوں کے عقیدہ کے خلاف ہیں اور جو اس مشہور تعلیم کے بھی خلاف ہیں جو قرآن کریم کی طرف منسوب کی جاتی ہے لیکن اس کی یہ وجہ نہیں کہ مسیح موعود علیہ السلام نے کوئی نئی تعلیم دی ہے بلکہ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ مسلمانوں میں زمانہ نبوت سے بعد کی وجہ سے بعض غلط عقائد کا رواج ہو گیا تھا اور ان عقائد کے ماتحت وہ قرآن کریم کے بھی غلط معنی کرنے لگ گئے تھے- مسیح موعود علیہ السلام نے آکر ان غلط عقائد کی اصلاح کر دی اور قرآن کریم کی تفسیر قرآن کریم کے دوسرے مقامات سے مطابق کر کے ان غلط تفسیروں کو رد کر دیا جو اس کی طرف زبردستی منسوب ہو رہی تھیں- پس حضرت مسیح موعود نے کوئی نئی تعلیم نہیں دی صرف مسلمانوں کی غلطیوں کی اصلاح کی ہے- ہاں بعض باتیں آپ نے نئی بھی بیان کی ہیں لیکن وہ بھی قرآن کریم سے باہر نہیں بلکہ قرآن کریم سے ہی ہیں لیکن چونکہ وہ اس زمانہ سے مخصوص تھیں دنیا کو اس سے پہلے ان کی معرفت عطا نہیں کی گئی تھی- ۴- سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے اس نے دنیا کو اپنے ارادے اور اپنے حکم سے پیدا کیا ہے‘ وہ ازل سے ہے اور اس کیلئے فنا نہیں‘ وہ مالک ہے سب قدرتوں کا اور قادر ہے اپنی مشیت پر اور اس وجہ سے کسی بیوی یا بیٹے یا مددگار کا محتاج نہیں‘ واحد ہے لاشریک ہے بڑے سے بڑا انسان خواہ کوئی ہو اس کا بندہ اور اس کا فرمانبردار ہے‘ انسان کیلئے اس کی پرستش کے سوا کسی کی پرستش جائز نہیں خواہ وہ موسیٰ‘ عیسیٰ‘ محمدعلیھم السلام والصلوۃ جیسی ہستیاں ہی کیوں نہ ہوں جیسا کہ حضرت مسیح ناصری نے فرمایا ہے کہ-: سب حکموں میں اول یہ ہے کہ اے اسرائیل سن! وہ خداوند جو ہمارا خدا ہے ایک ہی خداوند ہے اور تو خداوند کو جو تیرا خدا ہے اپنے سارے دل سے اور اپنی ساری جان سے اور اپنی ساری عقل سے اور اپنے سارے زور سے پیار کر اول حکم یہی ہے-۱۱؎ سلسلہ احمدیہ کی بھی یہی تعلیم ہے کہ انسان کا دل اور اس کی جان کلی طور پر خدا کیلئے ہونے چاہئیں بندوں کو خدائی کا مقام دینا درست نہیں ہے- ۵- سلسلہ احمدیہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس طرح پہلے بولتا تھا اب بھی بولتا ہے اور