انوارالعلوم (جلد  12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 656

انوارالعلوم (جلد  12) — Page 27

۲۷ اردو زبان کی کس طرح خدمت کر سکتے ہیں چاہئیں کہ ایک محدود جماعت کی دلچسپی کا مرکز بننے کی بجائے جمہور کو اس سے دلچسپی پیدا ہو- خالص علمی رسائل صرف منتخب اشخاص کی توجہ منعطف کرا سکتے ہیں- اور زبانیں چند آدمیوں سے نہیں بنتیں خواہ وہ بہت اونچے پایہ کے کیوں نہ ہوں- قاعدہ یہ ہے کہ زبان عوام الناس بناتے ہیں اور اصطلاحیں علماء اردو بھی اس قاعدہ سے مستثنی نہیں ہو سکتی- پس اگر ہم اردو کی ترقی کے مقصد میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اس کا ذریعہ صرف یہی ہے کہ ہمارے ادبی رسالوں میں اس کے علمی پہلوؤں پر بحثیں ہوں تا کہ صرف پیش آنے والی مشکلات کے علاج کا ہی سامان نہ ہو بلکہ عوام الناس بھی ان تحقیقات سے واقف ہوتے جائیں- اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے کئی اردو رسائل کامیابی سے چل رہے ہیں- اگر ان رسائل میں چند صفحات‘ مستقل طور پر اس بات کے لئے وقف ہو جائیں کہ ان میں اردو زبان کی لغت یا قواعد یا اصطلاحوں وغیرہ پر بحثیں ہوا کریں گی تو یقیناً تھوڑے عرصہ میں وہ کام ہو سکتا ہے جو بڑی بڑی انجمنیں نہیں کر سکتیں اور بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جو نئی نئی اختراعیں ہوں گی یا الفاظ کے استعمال یا قواعد زبان کے متعلق جو پہلو زیادہ وزنی معلوم ہوگا عام لوگ بھی اس کو قبول کر لیں گے- کیونکہ دلچسپ اردو رسائل میں چھپنے کی وجہ سے وہ سب مضامین ان کی نظروں سے بھی گذرتے رہیں گے- ہاں یہ مدنظر رہے کہ مضمون ایسے رنگ میں ہو کہ سب لوگ اسے سمجھ سکیں- اس قسم کے مضامین کی اشاعت کا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ ہمارے ہندو بھائی بھی ان بحثوں میں حصہ لے سکیں گے اور اس میں کیا شک ہے کہ بغیر ان کی مدد کے ہم یہ کام نہیں کر سکتے- کیونکہ اردو میں بہت سے لفظ سنسکرت اور ہندی بھاشا کے ہیں اور ان کی اصلاح یا ان میں ترقی بغیر ہندوؤں کی مدد کے نہیں ہو سکتی- ان کی شمولیت کے بغیر یا تو وہ حصہ زبان کا نامکمل رہ جائے گا یا اسے بالکل ترک کر کے اس کی جگہ عربی الفاظ اور اصطلاحیں داخل کرنی پڑیں گی اور یہ دونوں باتیں سخت مضر اور اردو کی ترقی کے راستہ میں روک پیدا کرنے والی ہوں گی- اس تمہید کے بعد میں ایڈیٹر صاحب ادبی دنیا اور دوسرے ادبی رسائل سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر وہ ان باتوں میں مجھ سے متفق ہوں تو اپنے رسائل میں ایک مستقل باب اس غرض کے لئے کھول دیں لیکن انہیں ان مشکلات کا بھی اندازہ کر لینا چاہئے جو اس کام میں پیش آئیں گی- مثلاً یہ کہ جو سوالات اٹھائے جائیں گے انہیں حل کون کرے گا؟ بالکل ممکن ہے کہ جواب دینے والے ایسے لوگ ہوں جن کا کلام سند نہ ہو یا جن کے جواب تسلی بخش نہ ہوں یا